کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 363
دوسرےیہ کہ بھیڑ گائے وغیرہ کوذبح سےپہلے برقی جھٹکا دیتےہیں،یااگر جانور بڑا ہو تواسے ہتھوڑے کی مانند ایک بلٹ ماری جاتی ہے،جس سےجانور بےہوش ہوجاتاہےاورپھر اسے ذبح کیا جاتاہے۔
اوراگر مرغی کا ذبیحہ ہوتو مرغیوں کوپانی کےایسے ٹب سےگزارا جاتاہےجس میں برقی رو دوڑ رہی ہوتی ہے،جونہی الٹی لٹکی ہوئی مرغی کا سراس پانی سےگزرتا ہےمرغی بےہوش ہوجاتی ہےاورپھر ایک خود بخود گھومنے والے تیز دھار آلے کی زد میں اس کی گردن گزرتی چلی جاتی ہے اورخون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔
جہاں تک اس طریقے سےمرغی کےذبیحہ کاتعلق ہے توبرطانیہ فوڈ انڈسٹری کی اپنی رپورٹ کےمطابق تیس فی صد مرغیاں برقی رو سے مرجاتی ہیں۔ گویا ہمارے پاس یہ جاننے کاکوئی ذریعہ نہیں کہ کون سی مرغی بوقت ذبح زندہ تھی اورکون سی مردہ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " دع مايريبك إلىٰ مالا يريبك"
’’ جس میں شک ہواسےچھوڑ دواور اسے اپنا لوجس میں شک نہ ہو۔‘‘[1]
کیونکہ مرغی کےذبیحہ میں شک واقع ہوگیا،اس لیے عیسائیوں کےکمرشل ذبیحہ سےبچنا چاہیے۔ جہاں تک دوسرے جانوروں کاتعلق ہےتو یہ جانور’’موقوذة‘‘(چوٹ کھایا ہواجانور) کی تعریف میں آتےہیں۔گوسورہ مائدہ کی آیات سےمعلوم ہوتاہے کہ ایسا جانور جو دم گھٹنے کی بناپر، چوٹ لگنےکی بناپر، اونچائی سےگرنے کی بناپر، دوسرے جانور کےسینگ سےزخمی ہونے کی بناپر اگر مرنےکےقریب ہواور مرنے سےپہلے اسےذبح کرلیا جائےتواس کاکھانا جائز ہےلیکن یہ اضطراری ذبیحہ کابیان
[1] جامع الترمذی،صفۃ القیامۃ، حدیث: 2518،وسنن النسائی ، الاشربۃ،حدیث:5714