کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 356
ہو اورجہاں شک ہووہاں حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ ابن قدامہ لکھتےہیں: ’’ اگر رضاع کےوجود میں شک ہویا اس کےعدد کےبارے میں کہ پورے پانچ مرتبہ ہوایا نہیں؟ توحرمت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ یقین شک کی بناپر زائل نہیں ہوتاجیسا کہ طلاق کےہونے یانہ ہونے میں شک ہو۔‘‘ اس رائے کےحامل شیخ عبداللطیف حمزہ سابق مفتی مصر بھی رہےہیں، یعنی دودھ بینک سےحاصل کردہ دودھ سےرضاعت ثابت نہیں ہوتی اوراس رائے سےشام کےمشہور عالم مصطفیٰ الزرقاء نےبھی اتفاق کیاہے۔ میرارجحان بھی اسی رائے کی طرف ہے، الا یہ کہ دودھ بینک میں ہرعورت کا دودھ علیحدہ علیحدہ محفوظ کیا گیا ہواور اس عورت کانام وپتہ بھی بچے کےکفیلوں کودیا جائے لیکن اگر یہ دودھ مختلف ہوتو پھر مندرجہ بالا دلائل کی بناپر حرمت ثابت نہیں ہو گی۔ واللّٰہ اعلم. ب اپ کی کمائی مشکوک ہواور ماں نےکم علمی سےسودلیا ہوتوایسی جائیداد کی وراثت سوال: میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں،دوبچے ہیں اور میرے شوہر متوسط آمدنی کےمالک ہیں۔ میری والدہ کاانتقال ہوگیا ہےاورانہوں نے اپنے پیچھے کچھ مال، سونا اوراپنےآبائی شہر میں ایک مکان چھوڑا ہے۔ یہ سب کچھ انہیں ہمارے والد سےبطور ہدیہ ملا تھا لیکن میرے والد کی کمائی کےبارےمیں شک کیا جاتاہے کہ وہ حرام کمائی