کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 354
ایک دفعہ سے کیا مراد ہے؟: اس سےمراد بچے کاچھاتی سےاس وقت تک دودھ پینا ہےجب تک کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کےاپنا منہ نہ ہٹالے،رکاوٹ کامطلب ہےکہ سانس لینے کی بنا پر یابطور کھیل یادودھ پلانے والی کےخود اسے ہٹانے کےبغیر اس نےاپنی مرضی سےدودھ چھوڑ دیاہو۔ اس طرح اگرپانچ مرتبہ دودھ پیے توحرمت ثابت ہوگی۔ رضاعت سےکون کون سے رشتے ثابت ہوتےہیں؟: بچے نےجس عورت کادودھ پیا ہے وہ اس کی رضاعی ماں اور اس کا شوہر اس کا رضاعی باپ کہلائے گا، یعنی ایسی عورت سےنکاح کرنا ناجائز ہوگا اور اس کےساتھ خلوت میں بیٹھنا یاسفر کرناجائز ہوگا، اس کےعلاوہ اس بچے کی اولاد اور اولاد کی اولاد کارشتہ بھی رضاعی ماں سے بحیثیت دادی یانانی قائم ہوجائےگا۔ دودھ پلانے والی عورت کےاوراس کےشوہر(جس کی وجہ سے دودھ اترا ہے) کےبچے دودھ پینے والے بچے کےرضاعی بھائی اور بہن کہلائیں گے۔ ان دونوں کی اولاد کی اولاد رضیع(دودھ پینےوالے بچے) کےلیے بمنزلہ بھائیوں اوربہنوں کی اولاد ہوگی۔ دودھ پلانے والی کےبھائی اس دودھ پینے والے بچے کےماموں اوراس کی بہنیں اس کی خالائیں ہوں گی۔ اس کےشوہر کاباپ اس کا دادا اورماں اس کی دادی ہوگی۔ اس کےشوہر کےبھائی اس کےچچا اوربہنیں پھوپھیاں ہوں گی۔ اس کےتمام اقرباء جیسے نسب میں اس کےرشتہ دار ہیں اس بچے کےبھی رشتے دار ہوں گے۔ لیکن رضیع( دودھ پینےوالے بچے) کےماں باپ، بھائی بہن، چچا، ماموں،خالہ، پھوپھی کامرضعہ(دودھ پلانےوالی) کےساتھ کوئی حرمت کارشتہ نہیں ہوگا،یعنی