کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 352
رضاعت کےبارے میں شرعی احکام کاخلاصہ یہ ہے: رضاعت اس عمل کانام ہےجس کےنتیجے میں ایک بچے کےمعدے میں عورت کا دودھ پہنچتا ہےاوربقول جرجانی:’’رضاعت نام ہےبچے کا مدت رضاعت میں ایک عورت کی چھاتی سےدودھ کاچوسنا۔‘‘[1] رضاعت کاحکم: ارشاد الٰہی ہے: ﴿ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ ﴾ ’’ (اورحرام ہیں تم پر)تمہاری وہ مائیں جنہوں نےتمہیں دودھ پلایا اور رضاعت کی وجہ سے تمہاری بہنیں۔‘‘[2] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کےبارے میں کہا: ’’یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔‘‘[3] رضاعت کی شرائط: جمہور کےنزدیک جس رضاعت سےحرمت ثابت ہوتی ہے، وہ ولادت کےبعد شروع کےدوسال ہیں،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ﴿ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ ’’اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں (خاص طور پر) اس باپ کی خواہش کے مطابق جو پوری مدت کے لیے دودھ پلوانا چاہتا ہو۔‘‘[4] اور ارشاد فرمایا: ﴿ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ ’’ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔‘‘[5]
[1] التعریفات ،ص: 148 [2] النساء 4؍23 [3] صحیح البخاری،الشھادات،حدیث: 2645،وصحیح مسلم،الرضاع،حدیث: 1446- 1447 [4] البقرہ2: 233 [5] الاحقاف 46: 15