کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 340
یہ بھی حجۃ الوداع کاموقع تھا۔وہ کہتی ہیں: قربانی والے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔میں نےپوچھا: یہ کیسا گوشت ہےتو لوگوں نےبتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔[1] ابن قدامہ ’’ المغنی‘‘ میں لکھتےہیں: مسئلہ : مستحب یہی ہےکہ مسلمان ذبح کرے،اگراپنے ہاتھ سےذبح کرےتو افضل ہےکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے ہاتھ سےذبح کیا تھا اوراس لیے بھی کہ آپ کایہ فعل تقرب انہی کےلیے تھاکہ جس کاخود کرنا کسی کونائب بنانے سےاولیٰ ہے۔ لیکن اگر کسی کونائب مقرر کردے تب بھی جائز ہوگا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےتریسٹھ اونٹ ذبح کرنے کےبعدباقی کےلیے نائب مقرر کردیا تھا۔اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہےکہ حضرت ابن عباس کی طویل حدیث کےمطابق آدمی کاذبیحہ کےوقت حاضر رہنا مستحب ہے۔ فرمایا: جب تم ذبح کروتو حاضر رہوکیونکہ ذبیحہ کےخون کےپہلے قطرے کےساتھ تمہاری مغفرت ہوجائے گی۔ [2] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی گئی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت فاطمہ سےکہا:اپنی قربانی کےموقع پرحاضررہو۔اس کےخون کےپہلے قطرے کےساتھ تمہاری مغفرت کی جائے گی۔[3] شیخ ابوبکر جابر الجزائری اپنی کتاب ’’ منہاج المسلم ‘‘ میں لکھتےہیں: ’’ مستحب تویہی ہےکہ ذبح خود کرے۔ اگر ذبح کرنے کےلیے دوسرے کواپنا نائب بنا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ اس بارےمیں علماء میں کوئی [1] صحیح البخاری، الحج، حدیث: 1709، و صحیح مسلم ، الحج، حدیث: 1211 [2] اس کی تخریج عنقریب آ رہی ہے ۔ [3] المغنی : 21؍495۔ 496