کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 339
میت کی طرف سے کون کون سےاعمال کیے جاسکتےہیں،ان کا جواب اگلے سوال کےضمن میں آجائے گا۔ انگلینڈ کےمسلمانوں کادوسرے ممالک میں اپنی قربانی کروانا سوال: ای میل کےذریعے سےیہ سوال پوچھا گیا ہےکہ آیا انگلینڈ کےمسلمان کسی دوسرے ملک میں اپنی قربانی کرواسکتےہیں یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اٹھایا گیا ہےکہ حال ہی میں میڈیا پرایک صاحب نےایسی قربانی کوناجائز ٹھہرایا ہے۔ جواب: عرض ہےکہ اس بات میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ ہرگھر پرایک قربانی واجب (اوربعض فقہاء کےنزدیک سنت موکدہ)ہےاور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے ہاتھ سے قربانی کےجانور ذبح کیے جیسا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سےمعلوم ہوتاہے۔ وہ کہتےہیں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز عید پڑھی۔ آپ نےخطبہ ختم کرنے کےبعد اپنےہاتھ سےایک مینڈھا ذبح کیااور الفاظ کہے: " بسم اللّٰه واللّٰه اكبر، هذا عنى وعمن لم يضح من امتى"[1] اس بات میں بھی اختلاف نہیں کہ قربانی کرنےکےلیے کسی کواپنا نائب بنایا جاسکتاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےحجۃ الوداع کےموقع پرتریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے اور باقی 37 اونٹوں کو ذبح کرنےکےلیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوہدایت کی۔[2] اوربروایت امام مالک اوربخاری،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی طرف سے اور اپنےگھروالوں کی طرف سےایک گائے ذبح کی۔ [1] سنن ابی داؤد ، الضحایا،حدیث: 2810، وجامع الترمذی، الاضاحی، حدیث: 1521 [2] صحیح المسلم ، الحج، حدیث: 1218