کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 338
میت کےلیے قربانی کی دو قسمیں ہیں: 1۔(پہلی)یہ کہ شرعی قربانی ہواور وہ یہ ہےکہ جوعیدالاضحیٰ میں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کےلیے ذبح کی جاتی ہے اوراس کاثواب میت کےلیے مقرر کردیا جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس سے بھی افضل یہ ہےکہ انسان اپنی طرف سے اور اپنےگھروالوں کی طرف سے قربانی کرےاور اس کےساتھ زندہ اورفوت شدہ (افراد) کی بھی نیت کرلے تو تبعاً میت بھی اس میں شامل ہوجائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےصرف اپنےگھر کےفوت شدگان میں سے کسی کی طرف سے قربانی نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین بیٹیاں زینب، ام کلثوم اوررقیہ رضی اللہ عنہ جوآپ کو بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھیں،آپ نے ان کےلیے بھی قربانی نہیں کی اوراسی طرح خدیجہ رضی اللہ عنہ جوآپ کی بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھیں، آپ نےان کےلیے بھی قربانی نہیں کی اوراسی طرح آپ کی چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جوجنگ احد میں شہید کردئیے گئے تھے، آپ نے ان کی طرف سے بھی قربانی نہیں کی۔ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی طرف سے اوراپنے گھر والوں(مجموعی طورپر زندہ یافوت شدہ) کی طرف سے قربانی کی ہے۔ 2۔ غیرعیدالاضحیٰ میں میت کی طرف سے جانور ذبح کرناجیسا کہ بعض جاہل لوگ ایسا کرتےہیں کہ میت کےلیے اس کی وفات کےساتویں روز جانور ذبح کیا جاتاہے یا اس کی وفات کےچالیسویں روز یا اس کی وفات کےتیسرے روز، یہ بدعت ہے اور جائز نہیں کیونکہ یہ ایسے بےفائدہ کام ہیں جن میں مال کاضیاع ہے،جس میں نہ تو دینی فائدہ ہےاور نہ دنیاوی بلکہ دینی نقصان ہےاور تمام بدعتیں گمراہی ہیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’ ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘[1] [1] فتاویٰ منارالاسلام :2؍ 411،منقول از جریدہ محدث،لاہور،عدد277