کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 337
نہیں۔ حافظ ابن حجر ان کےبارےمیں کہتےہیں کہ وہ کثرت سےتدلیس اور ارسال کیا کرتےتھے۔ اس حدیث میں انہوں نےجابرسےسننےکی تصریح نہیں کی، ابوحاتم الرازی نےبھی ان کی عدم سماعت کاتذکرہ کیا ہے۔ ان کے بیٹے عبدالرحمٰن الرازی کہتےہیں:معلوم ہوتاہےکہ وہ جابر تک پہنچے ہوں۔"يشبه أن يكون أدركه" گویا اس حدیث کی سند میں بھی اشتباہ ہے۔ شارح ترمذی محمد عبدالرحمٰن بن عبدالرحیم مبارکپوری تحفۃ الاحوزی میں لکھتےہیں: میت کی طرف سے انفرادی طورپر قربانی کرنے کےبارےمیں مجھے ایک بھی صحیح مرفوع حدیث نہیں ملی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے، اس لیے اگر کوئی شخص میت کی طرف سے انفرادی طورپر بھی قربانی کرےتو احتیاطاً سب کا سب صدقہ دے دے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتےہیں۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طرف سے قربانی کےبارےمیں لکھتےہیں: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کااپنی امت کی طرف سے قربانی کرنااور اپنی قربانی میں ان کوشریک کرناآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ خاص ہے،البتہ اپنی طرف سے اوراپنے اہل وعیال کی طرف سے قربانی کرناآپ کےساتھ خاص نہیں ہےاورنہ منسوخ ہی ہے اوراس کی دلیل یہ ہےکہ صحابہ کرام ایک ایک قربانی اپنی طرف سےاور اپنےگھروالوں کی طرف سےکیا کرتےتھے۔کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں کہ وہ بھی امت کی جانب سےقربانی کیاکرتے ہوں اورانہیں اپنی قربانی میں شریک کرتےہوں۔‘‘[2] آخر میں شیخ محمدبن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کی رائے پربات ختم کی جاتی ہے۔ [1] تحفۃ الاحوذی :5؍66 [2] تحفۃ الاحوذی : 5؍66