کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 334
شبرمہ والی روایت سےیہ بھی معلوم ہواکہ نہ صرف بھائی بلکہ اپنے کسی دوسرے رشتہ دار کی طرف سےبھی حج کیاجاسکتا ہے۔ پہلی اوردوسری حدیث میں کسی کی طرف سے حج کرنے کودوسرے کی طرف سے قرض ادا کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ قرض ادا کرنے کےلیے انتہائی قریبی رشتہ دار ہونا ضروری نہیں ہےبلکہ کوئی شخص بھی دوسری شخص کی طرف سےقرض ادا کردے تو وہ ادا ہوجائے گا۔ تومعلوم ہوا کہ دوسرے کی طرف سےحج ادا کرنےکےلیے صلبی اولاد یا بھائی بہن یاقریبی رشتہ دار کاہونا ضروری نہیں ہےبلکہ کوئی بھی شخص حج ادا کرسکتاہے۔ حج وعمرہ کےبعد عورت بال خود کاٹے یااحرام کھولے ہوئے خاتون سےکٹوائے سوال: عورت حج یاعمرہ کےبعد اپنے بال خود کاٹے یاجس نےپہلے احرام کھول لیا ہےوہ اس کےبال کاٹے؟ جواب: اپنے بال خود نہ کاٹے بلکہ جس نےاحرام کھول لیاہے اس سے کٹوائے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحج کےبعد حجام کوبلایا اوراس سے بال کاٹنے کوکہا۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےقربانی کرنا سوال: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےقربانی دینے کی شرعی حیثیت کیاہے؟ آج کل بعض لوگ اس طرح کرتےہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ حضرات صحابہ کرام،ائمہ وفقہاء اور [1] صحیح مسلم، الحج،حدیث: 1305