کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 328
مالک بننے کی صلاحیت نہ ہو۔[1] شرط تملیک کی بنا پرفقہائےاحناف مدراس وغیرہ میں مال زکاۃ خرچ کرنے کےلیے یہ حیلہ روا رکھتےہیں کہ پہلے غریب طلبہ کوزکاۃ کی رقم کامالک بنایا جاتا ہےاورپھر ان سےمدرسہ کےلیے رقم ہبہ کرلی جاتی ہےلیکن اس حیلے کی چنداں ضرورت نہ تھی کہ آیت مذکورہ میں حرف لام(للفقراء)لام تملیک کےمعنی میں نہیں بلکہ زکاۃ کےمصرف کےبیان کےلیے آیاہے۔ الازہرکےعلماء میں مفتی عبدالمجید سلیم اوربعض معاصر علماء نے قفال مروزی کی رائے کواختیار کرتےہوئے لفظ فی سبیل اللہ کوکافی وسعت دی ہے اورتمام خیراتی کاموں حتی کہ مساجد اورہسپتالوں کی تعمیر کوبھی’’فی سبیل اللہ، ،میں شمار کیاہے۔ غور طلب بات یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آٹھ مصارف کاذکر کیاجانا خود اس بات کی دلیل ہےکہ زکاۃ مخصوص مدات ہی میں صرف کی جا سکتی ہے، وگرنہ فی سبیل اللہ میں بعض وہ امور بھی آجاتےہیں جوان آٹھ مصارف میں شامل ہیں، جیسے مؤلفۃ القلوب( وہ لوگ جنہیں اسلام میں رغبت دلانے کےلیے یااسلام قبول کرنے کےبعد بطور اعانت مدد دی جاتی ہے۔) صحیح مسلم میں مروی ہےکہ عبدالمطلب بن ربیعہ اورفضل بن عباس نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےدرخواست کی کہ مال زکاۃ کی تحصیل پرہم کومقرر کر دیں تاکہ ہم بھی اس کام کے عوض کچھ فائدہ حاصل کرسکیں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’ مال زکاۃ اوساخ الناس،یعنی لوگوں کامیل کچیل ہےاورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اورآل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے جائز نہیں۔‘‘ [2] [1] فتاویٰ ہندیہ : 1؍ 97 [2] صحیح مسلم،الزکاۃ،حدیث :1072