کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 326
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز تفسیر میں ذکر کرتےہیں کہ فی سبیل اللہ کی اصطلاح جہاد کےساتھ مخصوص ہے،اس لیے فی سبیل اللہ سے مراد مجاہدین کی اعانت، جہاد کی تیاری اورجہاد سےمتعلقہ امورہیں اوریہی مذہب فقہائے اربعہ کاہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اوراحناف میں سے امام محمدِ رحمۃ اللہ علیہ نےفی سبیل اللہ میں حج کوبھی شامل رکھا ہے۔بطور دلیل ان دوروایات کوپیش کیاجاتاہے: حضرت ابولاس سےمنقول ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں صدقے کےانٹوں پرحج کےلیے سوار کرایا۔[1] حضرت معقل بن یسار سےمنقول ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:’’حج فی سبیل اللہ میں سے ہے۔‘‘ [2] ایک اورحدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےعورتوں کےلیے حج وعمرہ کوجہاد قرار دیا۔[3] ان روایات کی بنا پر امام احمد محمد کےنزدیک نادار مسلمان زکاۃ کی رقم سے حج کےلیے استفادہ کرسکتےہیں۔ اکثر فقہاء اور مفسرین نےاسلام کی دعوت وتبلیغ کوجہاد کی شکل قرار دیتے ہوئے مبلغین، داعی حضرات اورمدارس کےاساتذہ وطلبہ کی اعانت زکاۃ فنڈ میں سے ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔ مفسرین میں سے امام فخرالدین رازی لکھتےہیں: اورمعلوم ہوناچاہیے کہ فی سبیل اللہ کی عبارت بظاہر مجاہدین تک محدود نہیں ہے اور [1] صحیح البخاری، الزکاۃ ، قبل الحدیث: 1468، صحیح بخاری میں یہ روایت معلق ہے ۔ موصولاً یہ روایت مسند احمد (4؍ 221) میں موجود ہے ۔ [2] سنن ابی داؤد ، المناسک ، حدیث: 1989 [3] صحیح البخاری، الجہاد والسیر، حدیث: 2875، 2876