کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 309
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےقبروں کی زیارت کرنے والیوں پرلعنت فرمائی۔[1] اس حدیث کےبارےمیں بعض اہل علم کایہ کہناہےکہ یہ حکم شروع شروع میں تھااور اس کےبعد آپ نے ارشاد فرمادیا: ’’سنو! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سےمنع کیا تھا لیکن اب کہتا ہوں کہ قبروں کی زیارت کیا کروکہ اس طرح آخرت کی یاد آتی ہے۔‘‘[2] اس اجازت میں مرد اورعورت دونوں داخل ہوگئے لیکن بعض علماء کا کہنا ہےکہ عورتوں کےلیے قبرستان جانا ہرصورت میں مکروہ ہے،ان اسباب کی بنا پر جن کاذکر پہلے ہوچکاہے۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کےعمل اور ان کی ایک روایت سےثابت ہوتاہےکہ اگر یہ زیارت صرف میت کےلیے دعا اورآخرت کی یاد کےلیے ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔ آپ کاعمل یہ ہےکہ آپ اپنے بھائی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کی قبر پرگئیں[3] اور بروایت مسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت عائشہ سےکہا کہ حضرت جبرئیل نےان سےکہا ہےکہ تمہارا حکم دیتا ہےکہ تم اہل بقیع کےپاس جاؤ اوران کےلیے مغفرت کی دعا کرو۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کےرسول! میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:کہو: "السلام علي أهل الديار من المؤمنين والمسلمين ويرحم اللّٰه المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللّٰه بكم للاحقون" [1] سنن ابی داؤد، الجنائز، حدیث: 3236، وجامع الترمذی، الصلاۃ ، حدیث: 320 [2] مسند احمد : 1؍ 145، وجامع الترمذی، حدیث: 1054 [3] المستدرک للحاکم: 1؍ 376، و السنن الکبریٰ للبیہقی :4؍ 78