کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 307
زیارت کروکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔‘‘ [1] مشرک کےلیے دعائے مغفرت کرناحرام ہے، اللہ تعالیٰ کاارشادہے:’’ نبی کے لیے اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں، چاہے وہ ان کے لیے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، بعد اس کے کہ ان پر یہ ظاہر ہو گیا کہ وہ جہنمی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف ایک وعدہ کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے والد سے کیا تھا، پھر جب ان کے لیے یہ واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براءت کا اظہار کیا، بے شک ابراہیم علیہ السلام رجوع کرنے والے اور بردبار شخص ہیں۔‘‘ [2] عبداللہ بن ابی ابن سلول رئیس المنافقین کے مرنے پر تو خاص طور پر یہ فرمان نازل ہوا: ’’ان میں سے کسی پر بھی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کی قبر ہی پر کھڑے ہو، انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور ایسی حالت میں مرے ہیں کہ وہ فاسق تھے۔‘‘[3] خلاصہ کلام یہ ہواکہ 1۔ غیر مسلم کی عیادت جائز ہے۔ 2۔ غیرمسلم کےلیےدعائے مغفرت کرنابالکل ناجائز ہے۔ 3۔ غیرمسلم کےجنازے میں بھی شریک ہوناجائز نہیں، الا یہ کہ اس کےدفن کاانتظام کرنےوالا کوئی نہ ہو،ایسی صورت میں غیرمسلم رشتے دارکی میت کاضرورت کی بنا پر دفن کاانتظام کیاجاسکتاہےلیکن اگر چرچ میں یا کسی دوسری عبادت گاہ میں اس کی آخری رسوم ادا کی جائیں تواس میں شریک نہ ہوا جائے۔ [1] صحیح مسلم،الجنائز، حدیث: 976 [2] توبہ 9: 113 ،114 [3] توبہ 9: 84