کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 301
سب سے پہلے میرے دو دوست اورمیرےہم نشین جبرائیل اورمیکائیل نماز پڑھیں گے، پھر اسرافیل، پھرفرشتہ موت اوران کےساتھ فرشتوں کاانبوہ ہوگا۔ مجھ پرپہلے میرے اہل بیت میں سے مرد نماز پڑھیں، پھر ان کی عورتیں،پھر تم لوگ فوج درفوج اکیلے اکیلے داخل ہونا۔ مجھے ان عورتوں سےتکلیف نہ پہنچانا جوواویلا کریں یابین کریں یا چیخ وپکار کریں۔ میرے صحابہ میں سے جوغائب ہوا اسے میری طرف سے سلام پہنچانا۔[1] لیکن پھرلکھتےہیں کہ اس حدیث کےایک راوی سلام بن مسلم جنہیں ابن سلیم یا ابن سلیمان بھی کہا جاتاہے، علی بن مدینی،احمدبن حنبل،یحییٰ بن معین،بخاری،ابوحاتم،ابوزرعہ،ابراہیم جوزجانی،نسائی اورکئی دوسری محدثین کےنزدیک ضعیف ہے، بلکہ بعض ائمہ نے تو انہیں جھوٹا بھی قرار دیا ہےاور کئی نےان کی روایت قبول نہیں کی۔ پھر یہ بھی کہتےہیں کہ محدث ابوبکر بزار نےاس روایت کوسلام بن مسلم کےبجائے دوسرے راویوں سےبھی روایت کیا ہے۔[2] بہرحال اس روایت سےبھی یہی ثابت ہوتاہےکہ لوگ علیحدہ سےنماز پڑھیں اور ایک اضافی بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ فرشتوں نےعلیحدہ علیحدہ نماز پڑھی۔ [3] قاضی محمد سلیمان منصوری پوری نےطبری سےیہ نقل کیا ہےکہ چونکہ حجرہ مبارکہ تنگ تھا، اس لیے دس دس شخص اندر جاتے،جب وہ فارغ ہوکر باہرآتےتب اوردس اندر جاتے۔ یہ سلسلہ لگاتارشب وروز جاری رہا،اس لیے تدفین مبارک شب چہارشنبہ کو، یعنی رحلت سےتقریباً 32 گھنٹے بعد عمل میں آئی۔ انا للّٰه وانا اليه راجعون. [4] [1] مستدرک حاکم : 3؍62، و دلائل النبوۃ للبیہقی:8 345 [2] مسند البزار: 1؍ 320 [3] البدایہ والنہایہ :5؍ 292. 293 [4] رحمۃ العالمین :1؍ 253