کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 294
ایک بہت ہی اعلیٰ وارفع عبادت ہے،اس کےلیے مساجد کمیٹی کوحافظ اورقاری کاانتخاب کرناچاہیے۔کسی مسجد میں اگر ایسا امام مقرر کیاجاچکا ہوجس کی زبان میں لکنت ہویاوہ تجوید کےقواعد کی پابندی نہ کرتا ہوتواحسن طریقے سے اسے بدلنے کی کوشش کی جائے،بدرجہ مجبوری اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی۔ وہ ایسے ہی ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: صلوا خلف كل برِّ وفاجر ’’ ہرنیک وبد کےپیچھے نمازپڑھ لو۔‘‘ [1] اس کا حکم کامنشایہ نہیں کہ ایک بداخلاق،بدسیرت شخص کوامام بنایا جائے بلکہ اس کامطلب ہےکہ اگر مصلے پرایسا شخص مسلط ہوگیاہےتوفتنہ وفساد سےبچنے کےلیے اس کےپیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے،جیسے صحابہ اورکئی تابعین حجاج بن یوسف جیسے ظالم وسفاک شخص کےپیچھے نماز پڑھتے رہے۔ اگروہ اس کوتبدیل کرنے پرقادر ہوتےتویقیناً ایسا کرڈالتے لیکن بہرصورت اسے دل سےبرا جانتے رہے جوکہ منکر کےبدلنے کاتیسرا درجہ ہے۔ میری مراد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:’’ تم میں سے جوشخص منکر کودیکھے تواسے ہاتھ سےبدل دے،نہ کرسکےتوزبان سےفہمائش کرے،اس کی بھی طاقت نہ ہوتودل سےبرا جانے اوریہ ایمان کاکمزور ترین درجہ ہے۔‘‘[2] عورت کانفل نماز( تراویح اورنماز تسبیح وغیرہ) کی امامت کروانا سوال: کیاعورت نفل نماز کی امامت کرسکتی ہے؟ مثلاً : صلاۃ التسبیح یارمضان کی راتوں [1] السنن الکبریٰ للبیہقی :4؍19،یہ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھیے: ضعیف ابی داؤد الالبانی: 1؍208- 210،حدیث:94،لیکن مذکورہ بالا مقصود ایک دوسری حدیث سےپورا ہوجاتاہے، جس میں ہےکہ آپ نےفرمایا: ’’ ائمہ تمہیں نماز پڑھاتے ہیں۔ اگروہ صحیح پڑھائیں توتمہاری نماز ہوجائے گی اوراگر وہ غلطی کریں تو تمہاری نماز ہوجائے گی اور(ان کی خطا) ان کےخلاف ہوگی ۔‘‘ (صحیح البخاری،الاذان،حدیث:694 ) [2] صحیح مسلم، الایمان، حدیث: 49