کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 282
مصلے سےدور رہیں۔‘‘[1] اس روایت کوامام ابوحنیفہ سےمنسوب مسند امام اعظم(بترتیب صدرالدین موسیٰ بن زکریا حصکفی) میں بھی جگہ ملی ہے۔[2] ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اوربیٹیوں کوعید میں لایاکرتے تھے۔[3] ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دوسری روایت ہےکہ میں عیدالفطر یاعیدالاضحیٰ کےموقع پررسول کےساتھ نکلا ۔آپ نےنماز پڑھائی،پھر خطبہ دیا،پھر عورتوں کےپاس آئے، انہیں وعظ ونصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا۔‘‘[4] 23۔ ’’ عورت ایام تشریق میں تکبیربلند آواز سےنہیں پڑھ سکتی۔‘‘ اس جز کاتعلق نماز سےنہیں ہے۔ ایام تشریق (11- 12- 13 ذوالحجہ)میں چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے اورنمازوں کےبعد تکبیرات پڑھی جاتی ہیں۔ عورتیں جیسے عمرہ وحج کےاحرام کےدوران تلبیہ دھیمی آواز میں پڑھتی ہیں ویسے ہی انہیں تکبیرات بھی اتنی آواز سے کہنی چاہئیں کہ ایک عورت کہے تودوسری اسےسن سکے۔ 24۔ ’’عورت کونماز فجر اجالےمیں پڑھنا مستحب نہیں۔‘‘ فجر کی نماز کااول وقت میں پڑھنا مردو عورت دونوں کےلیے یکساں ہے۔افضل ہےکہ نماز اول وقت میں پڑھی جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ہم مومن عورتیں [1] صحیح البخاری ، الحیض، حدیث: 324، وصحیح مسلم ، صلاۃ العیدین، حدیث: 890 [2] مسند ابی حنیفۃ : 1؍ 365 [3] سنن ابن ماجہ ، اقامۃ الصلاۃ ، حدیث: 1309، و مصنف ابن ابی شیبہ : 2؍ 182 [4] صحیح البخاری ، العلم، حدیث: 98، وصحیح مسلم ، صلاۃ العیدین، حدیث: 884