کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 279
امام کاسانی لکھتےہیں: ’’ فی الجملہ عورت کا نماز کی امامت کرنادرست ہے۔ اگرعورتوں کی امامت کرائے توجائز ہےلیکن ان کےدرمیان کھڑی ہو،چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہےکہ انہوں نے عورتوں کوعصر کی نماز پڑھائی [1] اوران کےدرمیان کھڑی ہوئیں اورام سلمہ نےبھی عورتوں کی امامت کرائی اوران کےدرمیان کھڑی ہوئیں۔ اور یہ اس لیے کہ ا ن کےلیے ستر مطلوب ہےاور اس طرح کرناان کےلیے زیادہ ساتر ہےلیکن ہمارے نزدیک ان کی جماعت مکروہ ہےلیکن امام شافعی کےنزدیک ان کی جماعت مردوں کی جماعت کی طرح مستحب ہےاور اس بارےمیں احادیث بھی مروی ہیں لیکن یہ سب اسلام کےابتدائی زمانے میں تھا۔ عورتوں میں بھی جوان عورتوں کوجماعت کےلیے جانا جائز نہیں، وہ اس لیے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ وہ جوان عورتوں کےنکلنے سےروکتے تھے[2] اوراس لیے بھی کہ ان کاجماعت کےلیے نکلناباعث فتنہ ہےاور فتنہ خود حرام ہےاورجو چیز حرام کاباعث ہو وہ بھی حرام ہےلیکن بوڑھی عورتوں کاجماعت کےلیے نکلنا جائز ہے۔‘‘ [3] اس ساری عبارت سےحنفیہ اورشافعیہ کااختلاف ظاہر ہوا۔ ایک کےنزدیک عورتوں کی جماعت مکروہ ہے اوردوسرےکےنزدیک مستحب لیکن درج شدہ احادیث [1] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کانماز عصر پڑھانے کاتذکرہ مجھے نہیں ملا۔ہاں مطلقاً ان کا امامت کروانا ثابت ہےجیسا کہ چند روایات قبل اس کی تخریج گزرچکی ہے۔اسی طرح مذکورہ ام سلمہ رضی الہ عنہا کی آنےوالی روایت کی بھی ابھی تخریج گزری ہے۔ [2] حضرت عمر رضی اللہ عنہ کےخواتین کومسجد جانے سےروکنے کےمتعلق مجھے کوئی روایت نہیں ملی بلکہ آپ کا یہ روکنا ثابت نہیں ہے جیسا کہ عنقریب روایت آرہی ہے۔ [3] بدائع الصنائع:1؍157