کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 273
قتادہ،[1]اورعطاء [2]سےمنقول ہیں جن کومصنف عبدالرزاق میں دیکھا جاسکتاہے۔ امام بیہقی نےالسنن الکبریٰ میں پہلے دو آثار ذکر کرنے کےبعد لکھا ہےکہ اس باب میں دو ضعیف احادیث وارد ہیں جن سےاستدلال نہیں کیا جاسکتا، اس کےبعد وہ عطاء بن العجلان کی سند سےحضرت ابوسعید خدری کی یہ حدیث نقل کرتےہیں جوتین فقروں پرمشتمل ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: (الف) مردوں کی پہلی صفیں بہترین ہیں اورعورتوں کی آخری صفیں بہتریں ہیں۔ (ب) آپ مردوں کوحکم دیا کرتے تھےکہ سجدے کی حالت میں اپنےہاتھوں کوپہلو سے پھیلا کررکھیں(عربی میں لفظ تجافی مراد ہے) اورعورتوں کوحکم دیتے تھےکہ اپنے سجدوں میں نیچی رہیں۔ اورمردوں کوحکم دیتے تھےکہ تشہد میں بایاں پاؤں سرین پرپھیلائیں اوردائیاں کھڑا رکھیں اور عورتوں کوحکم دیتے تھےکہ وہ چار زانو(أَنْ يَتَرَبَّعن) ہوکر بیٹھیں ۔ (ج) اورپھر کہا: اےعورتو! نماز میں اپنی نظریں اوپرنہ اٹھاؤ تاکہ مردوں کےعورات (پوشیدہ اعضاء) پرنظر نہ پڑے۔[3] امام بیہقی لکھتےہیں کہ اس حدیث کاپہلا اورآخری فقرہ تومشہورہےلیکن بیچ والافقرہ منکر ہے، (یعنی ایسی حدیث جس کاراوی ضعیف ہواور پھر کسی ثقہ راوی کی روایت کےخلاف بیان کرے یا وہ حدیث جس کےراوی میں فاش اغلاط یاانتہائی غفلت یا فسق پایا جائے۔)[4] [1] مصنف عبد الرزاق :3؍ 137 [2] مصنف عبد الرزاق :3؍ 137 [3] سنن البیہقی : 2؍ 222 [4] سنن البیہقی : 2؍ 222