کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 247
کاتذکرہ پہلے آچکا ہےاورراقم الحروف کی شرکت پرآمادگی کاپس منظر بھی بیان ہوچکا ہے،اس لیے اس سلسلے میں کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہنی چاہیے۔ البتہ یہ کہاجاسکتاہےکہ اس قسم کی تقریبات سےعمائدین اسلام کواس لیے اجتناب کرناچاہیے تاکہ پریس انہیں ان کی کردار کشی کےلیے استعمال نہ کرسکے تواس کی گنجائش موجود ہے۔ میری محبان سنت سےگزارش ہےکہ ایسی تقریبات میں شرکت کےمصالح اورمفاسد کااندازہ کرلیا جائے اوراگر مصالح کاپہلو غالب ہوتوپھر شرکت کی جائے ورنہ احتراز کیاجائے۔واللّٰه اعلم . میت کےلیے قرآن خوانی کاحکم سوال: کسی کےانتقال کےبعد میت کےاقرباء واحباب قرآن خوانی شروع کردیتے ہیں،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیااس تلاوت سےمیت کوثواب پہنچتا ہے؟ بعض لوگوں کاخیال ہےکہ اگر تلاوت قرآن میں مصروف نہ ہوں تولوگ مختلف سیاسی اور دنیاوی بےکارگپ شپ میں مصروف ہوجاتےہیں، کیا اس سے بہتر نہیں کہ تلاوت قرآن اورذکر واذکار میں مصروف ہوں؟ اگر میت کوان چیزوں کاثواب نہیں پہنچتا توکیاپڑھنے والے بھی اس کےاجروثواب سے محروم ہوں گے؟ اگرقرآن خوانی اورذکرواذکار نہ کیے جائیں تو کیا پڑھا جائے اور کیسے وقت کوکارآمد بنایا جائے جبکہ یہاں میت کےحصول اورتدفین تک بسا اوقات کئی دن ہوجاتےہیں؟ جواب: اس مسئلہ میں ا صولی بات کاتذکرہ توقرآن میں آگیا ہے، ارشاد ہوا: