کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 243
میں وضاحت کردی جائے، مصلحت مرسلہ کی تعریف یہ ہے: أن يناط الامر باعتبار مناسب لم يدل الشارع على اعتباره ولا الغاءه الا أنه ملائم لتصرفات الشارع. ’’ کسی ایک کام کےلیے ایسی بات کالحاظ رکھاجائے جس کا شارع(شریعت دینےوالے) نےنہ اعتبار ہی کیا ہےاورنہ اسے غلط ہی قرار دیا ہےمگر یہ بات شارع کےتصرفات سےمناسبت رکھتی ہے۔‘‘ [1] اس کی چند مثالیں یہ ہیں: اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں قرآن کوایک مجلد میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔ یہ کام حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کےزمانےمیں ہوا۔[2] یہاں پرحفظ قرآن کالحاظ رکھا گیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخوداپنی زندگی میں حفظ قرآن پرزور دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےیہ حکم جاری کیاکہ اگر ایک آدمی کےقتل میں پوری ایک جماعت کا قتل کیاجائےگا۔[3] یہاں پرحفاظت ِ جان کالحاظ رکھا گیا،جس کاقرآن میں صراحتاً ذکر ہے۔ خلفائے راشدین نےکاریگروں کوضامن ٹھہرایا، اگروہ لوگوں کی دی ہوئی چیزوں کوبناتے وقت ضائع کردیں،یعنی درزی کو سینے کےلیے کپڑا دیا گیا تواسے نےاتنی کانٹ چھانٹ کی کہ کپڑا ہی ضائع ہوگیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نےاس بارےمیں عمومی [1] موسوعة فقه العبادات از علی بن نایف الشجود،باب الصلاۃ التروایح [2] صحیح البخاری،فضائل القرآن،حدیث :4986 [3] مصنف ابی شیبہ :9؍347،وموطا امام مالک،الدیات،حدیث:670