کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 239
’’ میری سنت کواور میرے بعد آنےوالے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کولازم پکڑو۔‘‘[1] حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:’’ ہروہ عبادت جسےصحابہ نےنہ کیا ہوتو اسے نہ کرو۔‘‘ [2] اورجیسے آپ کےفعل کی متابعت کرناسنت کہلاتاہےاسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس فعل کوچھوڑ دیا کرتے تھےجسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی چھوڑ دیا تھا، الا یہ کہ چھوڑنے کا سبب معلوم ہوگیاہو، جیسا کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نےایک خاص جانور(گوہ) کاکھانا چھوڑ دیا تھا،صحابہ کرام نےجب اس کا سبب پوچھا توآپ نےبتایا کہ یہ میرے وطن میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سےکوئی رغبت نہیں ہے۔[3] اس بات کی مزید وضاحت کےلیے عرض ہےکہ اگر کسی فعل کےکرنے کاجوازنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانہ میں موجود تھااوراس کےکرنے میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی،پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسے نہیں کیا تواس کا نہ کرنا(اسے چھوڑدینا)ہی سنت ہوگا جیسا [1] جامع الترمذی، العلم ، حدیث: 2676، و سنن ابن ماجہ ، المقدمۃ، حدیث: 42، ومشکل الآثار للطحاوی: 3؍ 183و اللفظ لہ [2] متقدمین اورمتاخرین بہت سے علماء نےحضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کایہ فرمان سنن ابی داؤد کےحوالے سےلکھاہے۔ اختصار کی غرض سےمتقدمین میں سے صر ف ا مام ابوشامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ (م:665ھ) کاحوالہ دیتاہوں،انہوں نے اپنی کتاب الباعث علی انکار البدع والحوادث، ص 16 پر یہ فرمان لکھا ہے۔اسی طرح متاخرین نےبھی یہ فرمان نقل کیا ہےلیکن موجودہ مطبوع سنن ابی داؤد میں یہ فرمان موجود نہیں ہے۔ محسوس ہوتاہےکہ ماضی میں سنن ابی داؤد کےکسی نسخے میں یہ قول ضرور موجود رہاہےلیکن وہ مسلمانوں کی شکست وریخت کی نذر ہوگیا ہےاورمتقدمین نےاسی نسخے سےیہ قول لیاہےاورمتاخرین نےمتقدمین کی نقل میں سنن ابی داؤد کی طرف اس قول کومنسوب کردیاہے۔(ناصر) [3] صحیح البخاری ، الذبائح، حدیث: 5537، و صحیح مسلم ، الصید والذبائح، حدیث: 1945