کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 236
ثابت نے (دور صدیقی میں) تیار کیا تھا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کےپاس محفوظ رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کےدورخلافت میں وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی تحویل میں رہا۔ اموی خلیفہ مروان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں اپنے دور حکومت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سےاس نسخے کی تحویل کامطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ان کی وفات کےبعد ہی مروان ﷜ اس نسخے کولینے میں کامیاب ہوا۔ محفل میلاد میں شرکت کرنا سوال:برائے مہربانی اس بات کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں کریں کہ کیامیلاد کی محفل میں شرکت کی جاسکتی ہےیانہیں؟ اگر اس بات کی اجازت ہےتوکس صورت میں ایسی محفل میں شرکت کی اجازت ہے؟ (حبیب الرحمنٰ،بریڈفورڈ ) جواب: لاریب کہ عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت ہےاور مروجہ عیدمیلادالنبی کےجلسے، جلوس یامحفل میں شرکت کرنا ایک بدعت کوتقویت دیناہے۔ اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’ من أحدث فى امرنا هذا ماليس منه فهورد، ، ’’ ہمارے اس کام میں جوشخص کوئی نئی چیز ایجاد کرتاہےجواس میں نہیں تھی،وہ مردود ہے۔‘‘[1] (بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ( من عمل عملاً ليس عليه امرنا فهورد) ’’ جوشخص کوئی ایسا عمل کرے جوہمارے اس کام سےموافقت نہ کرتاہوتو [1] صحیح البخاری، الصلح، حدیث: 2697،و صحیح مسلم ، الاقضیۃ، حدیث: 1718