کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 230
خانہ کعبہ کےجس کونے میں حجراسود کورکھا گیا ہےوہ طواف کی ابتداء کرنےکی علامت بنادیا گیا ہے،گویا حجراسود کی خاص حیثیت کی بنا پراسےیہ اعزاز دیا گیا ہےجوکہ کعبہ کےکسی دوسرے کونے کوحاصل نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کےقول سےیہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اسے ہاتھ لگانا یاچومنا سنت کی بنیاد پرہےنہ کہ پتھر کی عبادت یااس سےنفع ونقصان کی توقع رکھنا۔ شاہ ولی اللہ،حجۃ اللّٰه البالغہ میں لکھتےہیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: ’’حجراسود جنت سےنازل ہوا،وہ دودھ سےزیادہ سفید تھا لیکن بنی آدم کےگناہوں نےاسے کالا کردیا۔‘‘[1] اور یہ بھی فرمایا: ’’ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ قیامت کےدن اسے اس طرح لائیں گےکہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جس سے وہ دیکھے گااور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بات کرےگا اورہر اس شخص کےلیے گواہی دے گا جس نےحق کےساتھ اسے چھوا ہوگا۔‘‘[2] اور کہا: ’’ رکن (حجراسود) اورمقام(وہ پتھر جس پرحضرت ابراہیم علیہ السلام نےکھڑے ہوکر کعبہ کی تعمیر کی تھی) دونوں یاقوت ہیں۔‘‘[3] پھر شاہ ولی اللہ کہتےہیں : اس بات کا احتمال ہےکہ یہ دونوں پتھر اصل میں جنت سےہوں لیکن جب انہیں دنیا میں لایا گیا توحکمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ ان میں زمینی اوصاف رکھے جائے اوراس لیے ان کےنورکو مٹا دیا گیا۔[4] مولانا عبدالسلام بستوی لکھتےہیں :’’ حجراسود ایک تاریخی پتھر ہے،جس کوحضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کےمبارک اجسام سےمس ہونے کاشرف حاصل [1] جامع الترمذی،الحج،حدیث : 877 [2] سنن ابن ماجہ،المناسک،حدیث: 2944،ومسند احمد: 1؍ 371 [3] جامع الترمذی،الحج،حدیث : 878،ومسند احمد :، 2؍ 213 [4] حجۃ اللّٰه البالغہ،ص : 556