کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 228
لوگ بخیریت رہوگے، اس لیے جہاں تک ہوسکے اس سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ ایک وقت آئے گا کہ جہاں سےیہ پتھر آیا ہے وہیں واپس چلا جائے گا۔[1] خیثمہ بن عبدالرحمٰن جعفی کہتےہیں:حجرجب جنت سےنازل ہوا تھا توبرف سے زیادہ سفید تھا اگر بنی آدم کےگناہوں نےاسے نہ چھوا ہوتا توکوئی بھی اندھا،برص والا یاکوڑھی اسے چھوتا توشفایاب ہوجاتا۔ [2] ان احادیث اورآثار سےیہ فوائد اخذ کیے جاسکتےہیں: کعبہ کی ساری عمارت دنیا کےپتھروں سےبنی ہے۔صرف ان میں سے ایک پتھر ایسا ہےجس کی نسبت جنت کی طرف ہے،اس لیے اگر مسلمان اس پتھر کوبوسہ دیتے ہیں تو جنت کی اس نسبت کی بناء پر دیتےہیں نہ کہ کسی دنیوی پتھر کو۔ جنت کاہر شخص مشتاق ہےاوراگر اس دنیا میں جنت کی ایک چیز لاکر رکھ دی گئی ہےتو مشتاقان دید کا اسے چھونا اوربوسہ دینا ایک فطرتی امرہے۔ خانہ کعبہ کوسب سےپہلے حضرت آدم علیہ السلام نےبنایا تھا۔ بیہقی کی ایک روایت سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔[3] اورصحیح کی یہ حدیث اس بات پر واضح طریق سےدلالت کرتی ہے۔ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سےروایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کےرسول! کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ’’ مسجدحرام۔‘‘ انہوں نے پوچھا: اورپھر ؟ آپ نےفرمایا: ’’ مسجد اقصیٰ۔‘‘ انہوں نے پوچھا: دونوں میں کتنا [1] اخبار مکہ للازرقی :1؍40،258،274، واخبار مکۃ للفاکھی ‎: 1؍91،یہ اثر صحیح ہے۔ [2] اخبار مکۃ للفاکھی: 1؍ 94،ڈاکٹر دھیش نےاس کی سند کوحسن کہاہے۔ [3] دلائل النبوۃ للبیہقی : 1؍ 424،وتاریخ دمشق:2؍ 321 )