کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 219
امامت کبریٰ سےجدا نہیں کیاجاسکتا۔‘‘ امامت سفر کی طرح نماز کی امامت بھی نماز کےساتھ ختم ہوجاتی ہے، جونہی امام نےالسلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا،مقتدی اورامام کاتعلق ختم ہوگیا۔ دوسرا یہ کہ خلیفہ وقت کی موجودگی میں کیا صرف ایک ہی نماز باجماعت کااہتمام کیا جاتاتھا یا ہر علاقے بلکہ ہرمحلے کی مسجد میں نماز نہیں ہوتی تھی؟ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ پڑھتےاور پھر عوالی جاکر اہل محلہ کونماز پڑھایا کرتے تھے۔ [1] لیکن امام وقت یاخلیفہ سےبیعت کرنے کےبعد کیاہرشہر یاہرمحلہ میں جزوی بیعت ہواکرتی تھی، جوپیر ومرشد اپنے لیے روارکھتا ہو؟ کم از کم خیرالقرون میں توایسی بیعت کانام ونشان نہ تھا، قرون ثلاثہ(زمانہ رسول،زمانہ صحابہ، زمانہ تابعین اورتبع تابعین) کےبعد جہاں فرقہ بازی کی بدعت پیدا ہوئی وہاں تصوف کےسلسلوں کےنام پرمشائخ کےہاتھ پربیعت اصلاح وارشاد کی بدعت بھی وجود پذیر ہوئی۔ 3۔ ’’جوشخص اس حال میں مراکہ اس کی گردن میں طوق بیعت نہ تھا وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (الحدیث)[2] شریعت کےتمام احکامات استطاعت سےمشروط ہیں۔ ایک شخص حج کی استطاعت رکھتا ہولیکن بیت اللہ تک پہنچے کےتمام راستے مسدود ہوں،چاہے جنگ وجدال کی بنا پر یا کسی دوسرے سبب کی بنا پر توایسے شخص پرحج کرنا واجب نہ ہوگا جب تک کہ راستےکھل نہ جائیں، حالانکہ ایسی ہی وعید حج پرنہ جانے والوں کےلیے بھی ہے۔ ایسے ہی زکوٰۃ ادانہ کرنےوالے کےلیے سخت وعید ہےلیکن جس شخص کےپاس اتنا [1] صحیح البخاری، الأدب، حديث: 6106، و صحيح مسلم ، الصلاة ، حديث: 465 [2] صحیح مسلم،الامارۃ،حدیث :1851