کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 217
ہونے،آپ کےان دونوں قبروں پرٹہنی لگانے کاواقعہ نقل ہوا ہےاورپھر ٹہنیوں کےخشک ہونےتک ان کےعذاب میں تخفیف کاذکر ہے،[1] اسے ذرا ذہن میں تازہ کیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں الہام الہٰی سےدواشخاص کےعذاب قبر کےبارے میں بتایاگیا، وہ یقیناً مسلمان تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت میں داخل تھے لیکن انہیں تویہ بیعت کام نہ آئی یہاں تک کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےان کےلیے دعا کی اوربطور علامت وہ ٹہنیاں بھی لگائیں کہ جن کےخشک ہونےتک دونوں کےعذاب میں تخفیف کی گئی تھی،کیا یہ ایک قباحت ہی کافی نہیں کہ جس سے مزعومہ بیعت کی قلعی کھل جاتی ہے۔ (4)طریقت اوربیعت چونکہ لازم وملزوم ہیں،چنانچہ اس تعلق سےبھی نئے نئے شگوفے کھلتےہیں۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی لکھتےہیں:’’ بیعت کےسلسلے میں صوفیہ نےایک اور شاندار کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ اویس قرنی نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونہ دیکھا،نہ بیعت کی توان کےارواح کی آپس میں بیعت کرادی اوراسے نسبت اویسیہ کانام دیا۔ شیخ کی فلاں شیخ سے ملاقات ہی ثابت نہیں یا پیرکی وفات کےبہت عرصہ بعد مرید کی پیدائش ہوئی ہوتو وہ یہی نسبت اویسیہ قائم کرکے اپنا سلسلہ جاری فرما کرکام چلا لیے ہیں۔‘‘ (5)اپنی غلط رسموں کوجائز کرنےکےلیے قرآن وسنت کی مخصوص تاویلات فاسدہ کی جاتی ہیں کہ انسان اپنا سرپکڑ کربیٹھ جاتاہے۔ ابن جوزی، محمد بن طاہر کےحوالے سے اپنی کتاب میں لکھتےہیں:’’ پھٹے ہوئے کپڑے پہننے کےبارے میں شیخ کامرید پرشرط رکھنا۔‘‘ پھر انہوں نے اس بات کےضمن میں بطوردلیل عبادہ بن صامت کی یہ حدیث [1] صحیح البخاری، الوضوء، حدیث: 216،و صحیح مسلم ، الطہارۃ، حدیث: 292