کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 213
بنوامیہ کےدور کےبعد جب بنوعباس سرآرائے خلافت ہوئےلیکن اندلس جیسے دور دراز علاقے میں بنوامیہ کےامراء نےاپنی حکومت قائم کرلی تو علمائے امت نےفتنہ وفساد کا دروازہ بند کرنےکےلیے اس بات پر اتفاق کیاکہ ایک وقت میں دوردراز علاقوں میں دو علیحدہ علیحدہ خلافتیں ہوسکتی ہیں اور پھر اسی اصول کےتحت بعد کےادوار میں خراسان اورہندوستان کی مملکتیں بھی برداشت کی گئیں۔ 7۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نےاس شخص کی بیعت نہیں کی جس نے خلیفہ وقت کےخلاف خروج کیا ہو۔ اس تمام تفصیل سےیہ تو واضح ہوگیا کہ بیعت کادائرہ’’امامت کبریٰ‘‘ تک محدود ہے۔ ایسے امام کی بیعت ہی کی جاسکتی ہے جوواقعی اقتدار رکھتاہو،حدود نافذ کرسکتاہو،صلح وجنگ کےمعاہدے کرسکتاہو، وہ چاہے جہاد پربیعت لےیا کسی فعل خیرپریاکسی برائی سےروکنے پر۔ بیعت لینا اس کاحق ہے، البتہ کسی غیر اسلامی کام پراگر وہ بیعت لیناچاہے تو تواس کی بات نہیں مانی جائے گی۔ صوفیاء کےحلقہ میں بیعت اصلاح وارشاد کےنام پر سے ایک نئی روایت ڈالی گئی جس کاخیر القرون میں کوئی اتا پتانہیں ملتا۔ اگر مقصود لوگوں کی اصلاح ہےتو وہ مسجد کےمنبر سے، خطیب کےخطبات سے، معلم کی تعلیم سےاوربڑے بوڑھوں کی فہمائش سےبھی حاصل ہوسکتی ہےاور ان سے بڑھ کر نیک لوگوں کی صحبت اس کام کےلیے ایک نسخہ کیمیا ہے۔ شریعت کوئی ایسا حکم نہیں دیتی جوغیر ضروری اوربےفائدہ ہو۔ شیخ یامرشد جسےکوئی اختیار حاصل نہ ہو، اس کےہاتھ پر بیعت کرنے سےآخر کون سافائدہ حاصل ہو سکتاہے۔ اگر بالفرض ایک لمحہ کےلیے یہ مان بھی لیا جائے کہ لوگوں کی اصلاح کےلیے یہ طریقہ کار گرہوسکتا ہےتب بھی مندرجہ ذیل قباحتوں کی بنا پر اسے قبول نہیں کیا جاسکتا: