کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 206
بیعت کی شرعی حیثیت سوال: کیا فرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین بابت اس مسئلہ کےکہ پاک وہند میں پیرومرشد عوام سےجوبیعت لیتےہیں اس کی شرعی حیثیت کیاہے؟ اوریہ بات کہاں تک درست ہےکہ جس کاکوئی پیرومرشد نہ ہواس کاپیرومرشد شیطان ہوتاہےجیسا کہ عوام میں مشہورہے؟ براہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرماکر ممنون فرمائیں۔ ( از قاری محمد ایاز الدین، حیدرآباد،انڈیا) جواب:الحمد للّٰه رب العالمين والصلاة والسلام علىٰ سيدالمرسلين محمدوعلىٰ آله واصحابه اجمعين . جواباً عرض ہےکہ یہ سوال تفصیلی وضاحت چاہتاہےجودرج ذیل ہے: { إِنَّ اللّٰهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں سےان کی جانوں اوران کےمالوں کواس بات کےعوض خریدلیاہےکہ ان کوجنت ملے گی، وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں توقتل کرتےہیں اور(خود) قتل کیے جاتےہیں،اس پرسچا وعدہ کیاگیاہے تورات، انجیل اورقرآن میں.......... اورکون ہےاللہ سےزیادہ اپنے عہد کوپورا