کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 197
کی ایک دو تصریحات پرغور فرمائیں: ’’ اگر قرآن سےدیکھ کرپڑھے تواس کی نماز(احناف کےنزدیک) فاسد ہوجائےگی(کیونکہ اس میں تعظیم وتعلم ہے)۔اگرعورت کی شرمگاہ کوشہوت سےدیکھے تونماز فاسد نہیں ہوگی۔‘‘ [1] مولوی احمد رضا صاحب لکھتےہیں: ’’اگر عورت کوطلاق رجعی دی تھی، ہنوزعدت نہ گزری، یہ نماز میں تھا کہ عورت کی فرج داخل پرنظر پڑگئی اورشہوت پیدا ہوئی اورنماز میں فساد نہ آیا۔‘‘ [2] مولوی صادق صاحب اور دوسرے بریلوی صاحبان دریافت فرمائیں کہ شرمگاہ قرآن سےافضل ہے۔ قرآن سےنماز فاسد ہو، شرمگاہ کےملاحظہ سے سےنماز پرکوئی اثر نہ پڑے۔ شامی عراقی الفلاح میں بھی یہ مسئلہ موجود ہے، جوتوجیہ آپ کے بزرگ اس کےلیے کریں گے، اسی قسم کا عذر سید احمد شہید کےلیے بھی ہوگا۔ دوسرا مسئلہ: ’’ اگر امام ایک ماہ امامت کےبعد کہتاہےکہ میں مجوسی تھا۔مقتدی کونماز لوٹانےکی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر امام کہےکہ میں نےبےوضویاپلید کپڑے میں نماز پڑھائی ہےتوبصورت بےوضونماز لوٹانی چائیے۔‘‘[3] اگر آپ پر یہ الزام لگایا جائے کہ آپ مجوسی آتش پرست کوبےوضو مسلمان سےبہتر سمجھتےہیں، کیا آپ اسے پسند کریں گے؟ اگریہاں فقہاءرحمہم اللہ کی توجیہات صحیح سمجھی جاسکتی ہیں توسید احمدصاحب کےارشاد کی بھی توجیہ ہوسکتی ہے۔آپ اپنےعلماء سےدریافت فرمائیں۔ مجھےخطرہ ہےکہ اگر آپ نےمسائل میں تحقیق شروع کی تو [1] الاشباہ والنظائر، ابن نجیم، ص 720 [2] فتاوی رضویہ 1؍ 76 [3] الاشباہ والنظائر، ص : 720