کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 190
{وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ } ’’ بہت سےنبیوں کےہم رکاب ہوکر، بہت سے اللہ والے جہاد کرچکےہیں، انہیں بھی اللہ کی راہ میں تکلیفیں پہنچیں لیکن اس پرنہ تو انہوں نےہمت ہاری، نہ سست رہےاورنہ دبے، اوراللہ صبر کرنےوالوں کوچاہتاہے۔‘‘[1] وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں ایک قراءت قُتِلَ بصیغہ مجہول بھی ہے، قَاتَلَ کی جگہ اگر اسے قُتِلَ پڑھا جائے تواس کےدومعنی ہوسکتےہیں : الف) کتنے ہی نبی ہیں جو قتل ہوئے اوران کےساتھ بہت سے اللہ والےتھے،(یعنی قُتِلَ کانائب فاعل وہ ضمیر ہےجونبی کی طرف لوٹتی ہے)۔ ب) کتنے ہی نبی ہیں جن کےساتھ بہت سے اللہ والے قتل ہوئے، (یعنی نائب فاعل، لفظ ربیون، اللہ والےہے)۔ اب یہاں پرقتال کاذکر ہےاورچونکہ اللہ تعالیٰ نےرسولوں کےلیے غلبے کی بشارت دی ہےاورغلبہ قتل کےمنافی ہے، اس لیے ہم یہ کہنے پرمجبور ہیں کہ میدان جنگ میں نبی یارسول قتل نہیں ہوسکتا، اس لیے مذکورہ دونوں معنوں میں، دوسرے معنی ہی مراد لیےجائیں گےکہ جب کبھی قتال ہواتو اس میں نبی نہیں قتل ہوئے بلکہ ان کےساتھ کئی اللہ والے بےشک قتل ہوئے۔اوراس طرح یہ فرق واضح ہوگیا کہ انبیاء ورسل کےلیے غلبہ لازمی ہےاورمیدان جنگ میں وہ مقتول نہیں ہوسکتے، البتہ عام حالات میں یہ قتل واقع ہوسکتاہے، جیسے وہ انیباء جنہیں بنی اسرائیل نےقتل کیا تھا۔
[1] آل عمران 3: 146