کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 187
{الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ (2) فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (3) فِي بِضْعِ سِنِينَ } ’’ الم، رومی مغلوب ہوگئے، زمین کےپست ترین حصے میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کےبعد عنقریب غالب آجائیں گے، چند سال ہی میں۔‘‘[1] اورتاریخ یہی بتاتی ہےکہ باز نطینی سلطنت (جو سلطنت روما کی مشرقی شاخ تھی) نےارض فلسطین میں (جوکہ بحیرہ مردار کےحوالے سےزمین کاپست ترین حصہ کہلاتی ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےمکی دور کےزمانے میں شکست کھائی اورپھر سات سال کےمختصر عرصے میں شاہ ہرقل کودوبارہ فتح نصیب ہوئی اوراسی فتح کی خوشی میں وہ اللہ کاشکریہ ادا کرنےکےلیے بیت المقدس(موجودہ یروشلم)آیا تھا جہاں اسےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اسلام قبول کرنے کادعوت نامہ موصول ہوا تھا۔ تب اس نے یروشلم میں موجود عربوں کےسردار کوبلایا تھا اور اس سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبارےمیں چند سوالات کئے تھے۔ سورہ نساء کی آیت میں غلبے کوقتل کےمقابلےمیں ذکر کیاگیاہے، فرمایا: {وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا } ’’ اور جوشخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتاہے، پھر یاتو وہ قتل ہوجاتاہےیاغلبہ پالیتا ہے، پھر یقیناً ہم اسے بڑا ثواب عطا کریں گے۔‘‘[2] البتہ سورہ بقرہ کی آیت 87 سےاشکال پیدا ہوتاہےکہ آیا رسول بھی قتل کیے جاسکتے ہیں ؟ فرمایا: [1] الروم 30: 1۔ 3 [2] النساء4: 74