کتاب: فتاویٰ صراط مستقیم - صفحہ 186
بارےمیں اختلاف کرنے والےان کےبارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں سوائے تخمینی باتوں پرعمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہےکہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا۔‘‘[1] رسولوں کےلیے جس غلبے کاذکر کیاگیا ہے، وہ وہی غلبہ ہےجو ایک شخص کواپنے دشمن پرحاصل ہوتا ہے کہ دشمن شکست سےدوچار ہوتا ہےجبکہ رسول کوفتح ونصرت نصیب ہوتی ہے کیونکہ جہاں تک دلائل وبراہین سےغلبے کاتعلق ہےوہ توہرصورت میں ہررسول ہرنبی کو حاصل رہا ہے۔ محسوس طریقے پرغالب آنے کےیہ معنی خود قرآن ہی سےاخذ کیےگئے۔وہ اس طرح کہ قرآن میں جہاں جہاں غلبے کاذکر ہے، وہاں یہی محسوس غلبہ مراد لیا گیا ہے۔ کافروں کی اس دنیا میں مغلوبیت کاتذکرہ کیاگیا، فرمایا: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ } ’’ (اے نبی) کافروں سےکہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گےاور جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گےاوروہ براٹھکانا ہے۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانے میں یہود نےآپ سےدشمنی کی۔ مدینہ کےتین یہودی قبائل میں سے بنوقینقاع اوربنونضیر جلاوطن ہوئے اوربنوقریظہ قتل کئے گئے۔ خیبر فتح ہوا اور یہودیوں پرجزیہ عائد کردیا گیا۔ سورہ روم کےآغاز میں فارسیوں کےہاتھوں رومیوں کی شکست اورپھر چندسال میں ان کےغالب آنے کی بشارت دی گئی۔ فرمایا: [1] النساء4: 157 [2] آل عمران 3: 12