کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 99
آ پ کے گھر میں آکر ملاقاتیں کرنا وغیرہ یہ سب کچھ حرام ہے۔ جیسا کہ آ پ نے ذکر کیاہے کہ وہ شخص بھی بہت دین دار ہے اس لیے اسے بھی یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس جیسے معاملات سے پرہیز کرے تاکہ شیطان کو داخل ہونے کا موقع نہ مل سکے اور جو کچھ اس نے آپ کی یتیم بچی سے حسن سلوک کیا ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کا اجر وثواب عطا فرمائے لیکن اسے بہ بھی یادر کھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "خبردار!جو آدمی بھی کسی عور ت کے ساتھ تنہائی اختیار کرتاہے ان دونوں کا تیسرا(ساتھی)شیطان ہوتا ہے۔"[1] اورآ پ کی یہ امید کہ ا س شخص سےشادی کرنے میں خیروبھلائی اور بہتری ہے۔ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ یہ امید مندرجہ ذیل اُمور بجالانے سے برآئے گی: 1۔ نماز استخارہ کثرت سے ادا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے دنیا وآخرت کی بھلائی آسان کردے۔ 2۔ اوپر جن اشیاء سے بچنے کا اشارہ کیا گیاہے۔ان سے دور رہا جائے تاکہ کسی غیر محرم شخص سے تعلق پیدا نہ ہو اور بندے کو اپنا مطلوب اس وقت حاصل ہوتاہے جب وہ شریعت اسلامیہ پر عمل پیرا ہو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا رہے۔ 3۔ سوال میں جس محبت کا ذکر کیا گیا ہے اس کی حدت میں کمی کرنے کی کوشش تاکہ آپ اس کے خطرات کا ادراک کرتے ہوئے اس سے نکل سکیں اور اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا لگاؤ پیداکریں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے کلام میں غور وتدبر پیدا کریں۔ 4۔ اپنے والد کی رضا مندی اور قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ والد کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ایسا کرنے سے ہوسکتاہے کہ اس کا دل نرم ہوجائے اور وہ آپ کی سعادت اورخوشی کو مد نظر رکھتا ہو اسے پورا کرسکے۔ 5۔ اس شخص کے گھر والوں سے معذرت کریں اور ان سے ایسا سلوک کریں جس سے آپ کے اس فعل پر ندامت کا اظہار ہوتا ہو۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں یہ شادی قبول ہوجائے اور پھر اسی وجہ سے آپ [1] [(صحیح مسلم: صحیح الجامع الصغیر(2546) ترمذی(2165) کتاب الفتن:باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ(1171) کتاب الرضاع :باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیات،المشکاۃ(3118) السلسلۃ الصحیحۃ(430)]