کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 94
’’شوہر دیدہ کی شادی اس کے مشورہ کے بغیر نہ کی جائے اور کنواری کی شادی اس سے اجازت لیے بغیر نہ کی جائے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!اس کی اجازت کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،خاموش رہنا۔‘‘[1] اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’ایک کنواری لڑکی کے والد نے اس کی شادی کر دی لیکن وہ ناپسند کرتی تھی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ذکر کیا کہ اس کے والد نے اس کی شادی کر دی ہے لیکن وہ ناپسند کرتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا ہے۔‘‘[2] اسی قول کو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ،امام ابن قیم اور ابوبکر بن عبد العزیزرحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے ... اور امام اوزاعی،امام ثوری،امام ابو ثور،اصحاب الرائے اور امام ابن منذر کا بھی یہی مذہب ہے اور یہی قول صحیح ہے۔(شیخ محمد آل شیخ) شیخ عبد الرحمن سعدی سے دریافت کیا گیا کہ کیا بیٹی کو ایسے شخص کے ساتھ شادی پر مجبور کیا جا سکتا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہو؟تو ان کا جواب تھا: نہ تو لڑکی کا باپ اسے اس شادی پر مجبور کر سکتا ہے اور نہ ہی ماں،خواہ وہ دونوں اس(لڑکے)کو اس کے دین کی وجہ سے ہی پسند کرتے ہوں۔(شیخ عبد الرحمن سعدی) گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی اپنی شادی صحیح کیسے کرے؟ سوال:ہمیں یہ تو علم ہے کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق عورت کی ولی کی رضامندی کے بغیر شادی نہیں ہوسکتی۔بہت سے ایسے واقعات ہیں کہ لڑکا اور لڑکی آپس میں رضا مند ہوتے ہیں اور لڑکی گھر سے بھاگ کر اس کے ساتھ شادی کر لیتی ہے،تو میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ شادی صحیح نہیں تو یہ لوگ اپنی اس شادی کو کس طرح صحیح کریں،جبکہ اس شادی کو پانچ یا دس برس [1] [(بخارى(5136)كتاب النكاح:باب لا ينكح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاها)] [2] [(صحيح. صحيح ابوداؤد، ابوداؤد(2096) كتاب النكاح: باب فى البكر يزوجها أبوها ولا يستامرها، ابن ماجة(1875)كتاب النكاح: باب من ز وج ابنته وهى كارهة)]