کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 93
’’والدین کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ بچے کا اس سے نکاح کریں جسے وہ نہیں چاہتا،اگر وہ نکاح رک جاتا ہے تو اس سے وہ نافرمان شمار نہیں ہو گا۔‘‘[1] چوتھی بات یہ ہے کہ ہم آپ کے والد کے متعلق یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ان کی غیر موجودگی میں آپ ان کے لیے دعا کریں،اس ضمن میں کوئی خاص دعا تو نہیں البتہ یہ دعا کر سکتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائے۔اسی طرح والد صاحب کے کچھ دوست احباب سے تعاون لیں یا پھر ان رشتہ داروں کے ذریعے جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔نیز حسبِ استطاعت اپنی زبان میں تقاریر کی کیسٹیں اور کتابیں حاصل کریں جن میں اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہو اور برے اخلاق کے نقصانات بیان کیے گئے ہوں اور پھر یہ اپنے والد صاحب کو کسی اچھے سے اسلوب کے ساتھ بطور ہدیہ پیش کریں،ممکن ہے اللہ تعالیٰ اسے ان کی اصلاح کا سبب بنا دے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو اپنے پسندیدہ اور محبوب کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔....(شیخ محمد المنجد)... کیا ولی اپنی بیٹی کو شادی پر مجبور کر سکتا ہے؟ سوال:آدمی نے اپنی کنواری بیٹی کی شادی کر دی حالانکہ وہ مرد کو ناپسند کرتی تھی،پھر بیٹی شوہر کی اطاعت سے رک گئی اور یہ دھمکی دی کہ اگر اسے اس پر مجبور کیا گیا تو وہ خود کشی کر لے گی؟ جواب:جب معاشرت،ازدواجی حالات کی خرابی اور دونوں کے درمیان اصلاح کی ناامیدی کی حالت یہاں تک پہنچ جائے کہ جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے بالخصوص جب لڑکی کو(شادی پر)مجبور کیا گیا ہو تو بہتر یہ ہے کہ خلع یا کسی اور ذریعے سے دونوں کے تفریق کرانے کی کوشش کی جائے اور شوہر کے لیے بھی اس حالت میں بہتر یہی ہے کہ وہ خلع پر راضی ہو جائے ...... اسی طرح یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ کسی سے مخفی نہیں کہ صحت نکاح کی شرائط میں سے ایک(لڑکے اور لڑکی کی)رضا مندی بھی ہے اور اگر لڑکی کنواری ہو تو والد کو اسے مجبو کرنے کا کوئی حق نہیں اور اس قول کے دلائل واضح ہیں جن میں سے ایک وہ حدیث ہے جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ [1] [الاختيارات الفقهية(ص344)]