کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 91
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ والدین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بچے کو اس سے نکاح کرنے پر مجبور کریں جس سے وہ نکاح نہیں کرنا چاہتا اور اگر وہ نکاح نہیں کرتا تو اس سے وہ نافرمان نہیں ہو گا جس طرح کہ اگر چیز نہ کھانا چاہے(تو نہ کھانے سے نافرمان نہیں ہوتا)[1](شیخ محمد المنجد) اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کی رضامندی کے بغیر اس کی کہیں شادی کر دے سوال:ایک شخص نے اپنے بیٹے کی شادی اس کی رضامندی اور اس سے اجازت لینے کے بغیر ہی کر دی،پھر جب بیٹے نے اپنے والد کو بتایا کہ وہ فلاں کی بیٹی سے شادی میں رغبت نہیں رکھتا تو اس کے باوجود اس کے والد نے اس کی شادی اس کے ساتھ کر دی تو کیا شادی طلاق کی محتاج ہے یاسرے سے یہ شادی ہوئی ہی نہیں؟ جواب:باپ کا اپنے بالغ وعاقل بیٹے کا کسی لڑکے سے شادی کر دینا کہ جسے وہ نہیں چاہتا،شادی ہی نہیں اور نہ ہی یہ نکاح منعقد ہوا ہے کیونکہ اس میں عقد نکاح کی شرائط میں سے ایک شرط موجود نہیں اور وہ ہے(لڑکے کی)رضامندی اور اسی طرح عقد نکاح کے ارکان میں سے ایک رکن بھی مفقود ہے اور وہ ہے بیٹے کی طرف سے قبول،تو یہ نکاح ابتدائی طور پر منعقد ہی نہیں ہوا،لہٰذا یہ معدوم کے حکم میں ہے اور طلاق کا محتاج نہیں۔...(سعودی فتویٰ کمیٹی)... کیا خاوند اختیار کرنے میں لڑکی کا بھی کوئی حق ہے؟ سوال:والد صاحب چاہتے ہیں کہ بیٹی کے لیے خاوند بھی اپنی شہریت کاہو،وہ ہمارے ہر قسم کے معاملات میں حکم چلانا پسند کرتے ہیں،کیا آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ آپ کوئی ایسی دلیل پیش کریں کہ لڑکی کو خاوند اختیار کرنے کا حق ہے خواہ وہ کسی بھی ملک کی شہریت رکھتا ہو صرف یہ ہے کہ وہ صالح،نیک اور اچھی طبیعت کا مالک ہونا چاہیے۔ میرے والد صاحب کا خیال ہے کہ بچی کو خاوند کے اختیار میں کوئی حق نہیں،یہ حق صرف بچی کے والد کو ہے،اس لیے میرے خیال میں وہ صرف اسی کو اختیار کریں گے جو ان کے ملک کی شہریت رکھتا ہو۔کیا بچی کے لیے جائز ہے کہ اگر مناسب شخص پا لے تو اسے اپنا خاوند اختیار کر لے جب کہ وہ کفو بھی ہو خواہ والد صاحب شہریت کی وجہ سے [1] [(الاختیارات الفقہیۃ: ص 344)]