کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 89
صحتِ نکاح کے لیے ولی شرط ہے اور کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ ولی کے بغیر خود ہی اپنا نکاح کر لے یا بغیر کسی سبب کے ولی کے علاوہ کوئی اور اس کا نکاح کرے،نہ توخود اور نہ ہی قائم مقام یا وکیل بن کر اور اگر عورت خود ہی نکاح کرتی ہے تو یہ نکاح باطل ہو گا۔ لیکن مال کے بارے میں یہ ہے کہ عورت جب عقلمند اور سمجھدار اور بالغ ہو تو وہ اپنے مال پر پورا اختیار رکھتی ہے،اسے اس میں پورا تصرف کرنے کا حق حاصل ہے۔وہ جس طرح چاہے اس میں عوض یا بغیر عوض کے تصرف کر سکتی ہے مثلاً خریدوفروخت یا پھر کرایہ اور قرض یا اپنا سارا یا مال کا کچھ حصہ صدقہ وہبہ وغیرہ کر سکتی ہے۔کسی کو بھی اسے اس سے منع کرنے کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی عورت کو اس کام کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت ہے۔چاہے وہ عورت کنواری ہو اور اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہو یا بغیر باپ کے یا پھر وہ شادی شدہ ہو۔ اور عورت کو اپنی اولاد کے مال میں بھی تصرف کرنے کا حق حاصل ہے یعنی وہ اس میں سے کھا پی سکتی ہے جیسا کہ مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں تصرف کر سکتا ہے اور اسی طرح عورت اپنے والدین کے مال سے جو اس کے لیے مباح ہے کھا پی سکتی ہے اور اس میں تصرف کر سکتی ہے۔ماں کو اپنے چھوٹے بچوں اور مجنون کے مال کی ولایت حاصل ہے،کیونکہ وہ اپنی اولاد پر دوسروں سے زیادہ شفقت کرنے والی ہے۔ عورت اپنے خاوند کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر نہ تو تصرف کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے صدقہ کر سکتی ہے۔ہاں اگر خاوند کی اجازت سے ایسا کرے تو درست ہے۔ عورت وصی بھی بن سکتی ہے جب اس میں وصی کی شروط پائی جائیں تو اسے وصیت کے ذریعے مال کی ولایت مل سکتی ہے چاہے وہ بچوں کی ماں ہو یا کوئی اجنبی۔ عورت وقف شدہ مال کی نگران بھی بن سکتی ہے،بالاتفاق اسے وقف میں تصرف اور نگرانی میں ولایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔[1](واللہ اعلم)(شیخ سعد الحمید) کیا بیٹا یابیٹی والدین کے منتخب کردہ رشتے کا انکار کر سکتے ہیں؟ سوال:والدین کو اپنے بچے کا رفیق حیات اختیار کرنے کا کہاں تک حق حاصل ہے اور کیا اگر وہ بیٹی کو اپنے کسی رشتہ داری سے شادی پر مجبور کریں جسے بیٹی نہیں چاہتی تو اس کا کیا حکم ہو گا؟او راگر بیٹی انکار کر دے تو وہ کس حد تک [1] [(دیکھیں: المرأۃ فی الفقہ الاسلامی: 291)]