کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 85
ولی کے بغیر نکاح ہو گیا،اب شوہر دوبارہ نکاح سے انکار کرتا ہے سوال:میں نے اسلام قبول کرنے کےدو ماہ بعد ایک مسلمان شخص سے شادی کر لی،لیکن اس وقت مجھے نکاح کی شروط کا علم نہ تھا۔میں نے عدالت میں نکاح کیا اور میرا کوئی ولی نہیں تھا تو کیا یہ عقدِ نکاح صحیح ہے،میرا خاوند تجدید نکاح نہیں کروانا چاہتا،اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جواب:خاوند کو تجدید نکاح پر آمادہ کرنا ضروری ہے کہ ولی کی طرف سے نکاح کی اجازت ہو اور خاوند اسے قبول کرے۔آپ خاوند سے اجتناب کرنا برداشت کریں اور اس سے علیحدہ ہو جائیں جب تک وہ تجدید نکاح نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(شیخ محمد المنجد) اگر لڑکی کا ولی شادی کے وقت حاضر نہ ہو سکتا ہو سوال:عورت اپنے شہر کے علاوہ کسی اور شہر میں ہو اور اس کا ولی وہاں موجود نہ ہو تو کیا اس کے لیے وہاں شادی کرنا جائز ہے؟ جواب:عورت جس کا کوئی ولی نہ ہویا ولی تو ہو لیکن کسی بھی وجہ سے وہ وہاں پہنچ نہ سکتا ہو تو حکمران اس عورت کا ولی بن کر نکاح کرا دے گا اور اس مسئلے میں قاضی حکمران کا نائب ہے،لہٰذا جب حکمران یا اس کا نائب نکاح کر ا دے گا تو عقدِ نکاح درست ہو جائے گا۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) گواہوں کے بغیر شادی سوال:ایک عورت نے کسی شخص سے کہا میں نے تجھے بطور خاوند قبول کیا اور اسی طرح وہ شخص بھی اسے کہنے لگا کہ میں اس پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں،لیکن اس میں کوئی گواہ وغیرہ موجود نہیں تھا۔اس کے بعد دونوں نے ایک تقریب کا انعقاد کر کے لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے شادی کر لی ہے لہٰذا اس شادی کا کیا حکم ہو گا؟ جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ولی اور دو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔‘‘[1] [1] [(صحیح: ارواؤ الغلیل: 1858)]