کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 84
نيز عقدِ نکاح میں واجب اور ضروری ہے کہ دو عدد عاقل بالغ مسلمان اس عقدِ نکاح کی گواہی دیں،اس لیے آپ کی پہلی شادی باطل تھی۔اب آپ کو دوبارہ نکاح کرنا چاہیے اور اس میں عورت کے ولی اور دو گواہوں کا ہونا ضر وری ہے جیسا کہ پیچھے گذر چکا ہے۔(شیخ محمد المنجد) شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ سے دریافت کیا گیا کہ کیا بالغ لڑکی کا نکاح بغیر ولی کے کیا جا سکتا ہے؟ تو ان کا جواب یہ تھا: یہ علم میں ہونا چاہیے کہ بغیر ولی کے عورت کی شادی صحیح نہیں،صحابہ وتابعین اور ان کے بعد کے جمہور علماء کا یہی مذہب ہے اور اسی پر کتاب وسنت اور آثار سلف دلالت کرتے ہیں۔(شیخ محمد آل شیخ) شیخ صالح بن فوزان رحمہ اللہ سے والد کی اجازت کے بغیر کنواری لڑکی کی شادی کے متعلق دریافت کیا گیا؟ تو ان کا جواب یہ تھا: عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر شادی کرے کیونکہ وہ اس کا ولی وسرپرست ہے اور اس سے زیادہ اچھی نگاه رکھنے والا ہے،لیکن والد کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ صالح وکفو رشتہ ملنے کے باوجود بھی اپنی بیٹی کو شادی سے روکتا پھرے۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تمہارے پاس ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جو بااخلاق اور امین ہو تو اس سے شادی کر دو ورنہ زمین میں فتنہ وفساد ہو گا۔ اور بیٹی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس شخص سے شادی پر اصرار کرے جس سے شادی پر اس کا والد راضی نہیں کیونکہ والد اس سے زیادہ دور تک نگاہ رکھنے والا ہے اور اس لیے بھی کہ وہ نہیں جانتی شاید اس سے شادی نہ کرنے میں ہی خیر ہو اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَعَسى أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَّهُوَ شَرُّلَّكُمْ﴾ ’’اور قریب ہے کہ تم کسی کو چیز پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔‘‘[1] اور اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتی رہے کہ وہ اس کے لیے نیک شوہر اختیافر مائے۔(شیخ صالح فوزان) [1] [(البقرۃ: 216)]