کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 80
کلمات تین مرتبہ دہرائے۔‘‘[1] 4۔ عقد نکاح کے لیے گواہ،اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ولی اور دو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔‘‘[2] نیز نکاح کا اعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’نکاح کا اعلان کرو۔‘‘[3] ولی بننے کی شروط: 1۔ عقل،یعنی عقل مند ہو بے وقوف ولی نہیں بن سکتا۔ 2۔ بلوغت،یعنی بالغ ہو بچہ نہ ہو۔ 3۔ حریت،یعنی آزاد ہو غلام نہ ہو۔ 4۔ دین ایک ہو،اس لیے کہ کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہیں ہو سکتی اور اسی طرح مسلمان کسی کافر یا کافرہ کا ولی نہیں بن سکتا۔ کافر مرد کو کافرہ عورت پر شادی کی ولایت مل سکتی ہے،خواہ ان کا دین مختلف ہی ہو اور اسی طرح مرتد شخص کو بھی کسی مسلمان پر ولایت حاصل نہیں ہو سکتی۔ 5۔ عدالت،یعنی عادل ہونا چاہیے۔یہ عدل فسق کے منافی ہے،جو بعض علماء کے نزدیک تو شرط ہے اور بعض علماء اسے شرط قرار نہیں دیتے۔ 6۔ ذکورۃ،یعنی وہ مرد ہو۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’کوئی عورت کسی دوسری عورت کا(ولی بن کر)نکاح نہ کرے اور نہ ہی خود اپنا نکاح کرے بلاشبہ وہ عورت زانیہ ہے جس نے اپنا نکاح خود کر لیا۔‘‘[4] [1] [(صحيح: صحيح ابوداؤد(1835) كتاب النكاح: باب فى الولى، ابوداؤد(2038) أحمد(6/47) ترمذى(1102) ابن ماجة(1879)ابن الجارود (700) دارمى(3/7) دارقطنى(3/221) حاكم(2/168)] [2] [(صحيح: ارواء الغليل(1858) صحيح الجامع الصغير(7558)] [3] [(حسن: صحيح الجامع الصغير(1072)] [4] [(حسن: هداية الرولة(3072) صحيح ابن ماجة(1527) كتاب النكاح: باب لانكاح إلا بولى، ابن ماجة(1882)دارقطنى(3/227) بيهقى(7/110)]