کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 77
پوری کر سکتے ہیں۔‘‘[1] شیخ ابن عثیمین کا یہ بھی کہنا ہے: ’’ لیکن کاش!ہم اس حد تک نہ پہنچیں کہ جس میں لڑکی اس بات کی جرأت کرے کہ جب اس کا والد اسے ایسے شخص سے شادی نہ کرنے دے جو دینی اور اخلاقی لحاظ سے اس کا کفو ہو تو وہ لڑکی قاضی سے جا کر شکایت کرے اور قاضی اس کے والد سے کہے کہ اس کی شادی اس شخص سے کر دو وگرنہ میں کرتا ہوں یا پھر تیرے علاوہ کوئی اور ولی کر دے گا۔لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ جب اس کا والد اسے شادی نہ کرنے دے(تو وہ قاضی سے شکایت کر دے)اور یہ اس کا شرعی حق ہے۔کاش!ہم اس حد تک نہ پہنچیں،لیکن اکثر لڑکیاں شرم وحیاء کی وجہ سے ایسا نہیں کرتیں۔ ہمیں یہ تو علم نہیں کہ شرعی عدالت اس کام کے لیے زیادہ وقت لیتی ہے یا کم،البتہ یہ ممکن ہے کہ قاضی کو یہ تنبیہ کر دی جائے کہ یہ احتمال ہے کہ اس کا والد اسے دوبارہ عدالت میں آنے سے روک دے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کی مشکلات دور کرے اور آپ کے معاملات کو آسان فرمائے۔(آمین) ………(شیخ محمد المنجد)……… [1] [(ملحضا، فتاوى اسلاميه (3/148)]