کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 76
لڑکی سے شادی کرے گا۔حاکم پر بھی واجب ہے کہ جب اس کے پاس یہ مقدمہ پہنچے اور یہ ثابت ہو جائے کہ لڑکی کے اولیاء نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے تو پھر وہ خود لڑکی کی شادی کرے کیونکہ جب خاص ولایت نہ ہو تو اسے عام ولایت حاصل ہے۔ فقہائے کرام نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اگر ولی کسی کفو رشتہ سے لڑکی کی شادی کرنے سے انکار کرتا ہے او رایسا بار بار کرے تو وہ فاسق ہو جائے گا اور اس کی ولایت ساقط ہو جائے گی،بلکہ امام احمد کا مشہور مسلک تو یہ ہے کہ اس سے امامت کا حق بھی ساقط ہو جائے گا اور وہ نماز میں امام نہیں بن سکے گا،جو کہ اور بھی خطرناک ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب لڑکی کے دیگر قریبی اولیاء بھی اس کی شادی اس کے کفو سے نہیں کرتے تو وہ حیاء کی وجہ سے شرعی عدالت کے پاس نہیں جاتی۔اسے سوچنا چاہیے کہ کیا اس کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ یونہی بغیر شادی کے ہی پڑی رہے یا پھر قاضی کے سامنے یہ مقدمہ پیش کرے اور شادی کرائے جو کہ شرعاً اس کا حق بھی ہے۔ تو بلا تردد اس کے لیے قاضی کے پاس جانا ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اس کا حق ہے اور دوسری بات یہ کہ اس نے ایسا کرنے سے دوسری مظلوم لڑکیاں بھی عدالت کا دروازہ کٹھکٹھائیں گی اور یوں وہ انہیں اولیاء کے ظلم سے بچانے کا ذریعہ بن جائے گی۔یعنی ایسا کرنے میں تین طرح کی مصلحتیں پائی جاتی ہیں: 1۔ عورت کے لیے اپنی مصلحت کی وہ شادی کے بغیر نہیں رہے گی۔ 2۔ دوسری لڑکیوں کی بھی اس میں مصلحت ہے کہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ کون یہ دروازہ کھولے گا اور پھر وہ بھی اس کی پیروی کریں۔ 3۔ لڑکیوں کے اولیاء کو ان پر ظلم سے باز رکھنا۔ اور اس میں یہ بھی مصلحت ہے کہ ایسا کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل ہوتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کا دین اور اخلاق تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کر دو۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہو گا۔‘‘[1] اسی طرح ایسا کرنے میں ایک خاص مصلحت یہ بھی ہے کہ جو لڑکے اخلاقی اور دینی اعتبار سے لڑکیوں کو کفو شمار ہوتے ہیں وہ رشتہ لینے آئے ہیں،ان کی خواہش اور مقصد کی تکمیل ہے کہ اپنی خواہش کو جائز طریقے سے [1] [(فتاوى الشيخ محمد بن ابراهيم(10/97)]