کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 74
لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔لڑکی نے اپنے والد کو سمجھایا بھی ہے کہ وہ اب بڑی عمر کی ہو گئی ہے اور شادی کے مواقع بھی کم ہو چکے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈرایا،لیکن اس کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہوا۔دراصل والد صاحب صرف والدہ کی بات مانتے ہیں اور سب کچھ ان کے ہاتھ میں دے رکھا ہے۔وہ اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتی،رسم ورواج کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لالچ سے کہ بیٹی ملازمت کرے اور والدہ کو تنخواہ لا کر دے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس لڑکی کو عدالت میں جانا چاہیے تاکہ قاضی اس کی شادی اس لڑکے سے کر دے اور کیا ایسا کرنے میں بہت زیادہ وقت صرف ہو گا تاکہ شادی ہو سکے،یعنی کیا قاضی اس کے والد کو طلب کرے گا اور معاملات لمبے ہوں گے۔اسے یہ خوف ہے کہ اگر اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور قاضی نے تاریخ مقرر کر دی تو یہ احتمال ہے کہ گھر والے وہاں جانے ہی نہ دیں اور اس کی عدم موجودگی میں معاملہ ختم ہو جائے۔ہمیں اس موضوع کے بارے میں معلومات سے نوازیں،اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ جواب:والدین کا اپنی بیٹیوں کی برادری وقبیلہ کے علاو ہ کہیں اور شادی نہ کرنا،خواہ اس وجہ سے شادی میں تاخیر ہی کیوں نہ ہوجائے،بہت بڑا ظلم ہے اور اس امانت میں خیانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے۔لڑکی کو شادی کرنے سے روکے رکھنا اور اسے گھر میں بٹھائے رکھنا جو فساد برپا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا اور پھر آج معاشروں میں نظر دوڑانے والا شخص بھی اسے بخوبی محسوس کر سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مفاسد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ اس طرح فرمایا: ’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کا دین اور اخلاق تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کر دو۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہو گا۔‘‘[1] جو ولی بھی اپنی اپنی ولایت میں پلنے والی کسی عورت کو دینی اور اخلاقی طور پر پسندیدہ رشتہ آنے کے باوجود شادی سے منع کرتا ہے،وہ اس کے لیے عاضل شمار ہو گا ولی بھی نہیں رہے گا بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور قریبی ولی بنے گا اور ولایت اس کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ امام ابن قدامہ بیان کرتے ہیں: ’’عورت جب کسی شادی کرنے کا مطالبہ کرے اور وہ رشتہ بھی اس کا کفو(دینی اعتبار سے برابر)ہو اور دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہوں تو لڑکی کو اس سے شادی نہ کرنے دینا ’عضل‘ کہلاتا ہے۔ [1] [(حسن: ارواء الغلل: 1868، ترمذي: 1084، كتاب النكاح: باب ما جاء اذا جاء كم من ترضون دينه فزوجون، ابن ماجة: 1967، كتاب النكاح، باب الأكفاء)]