کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 73
کریں اور جو لوگ اپنی اولاد کی تربیت میں ممتاز ہیں ان کے تجربات سے بھی مستفید ہوا جائے اور اولاد کی تربیت میں سب سے اہم اور ضروری چیز تو خود والدین ہی ہیں جنہیں ان کے لیے قدوۂ حسنہ اور نمونہ ہونا چاہیے۔اگر وہ خود دین پرعمل پیرا ہوں گے تو اولاد بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صالح وفرمانبردار ہو گی۔ان شاء اللہ۔شیخ محمد المنجد جوان لڑکی کا اپنے ولی سے شادی کی خواہش کا اظہار سوال:جب لڑکی بالغ ہو جائے اور اسے کوئی مناسب صالح آدمی کا رشتہ نہ آ رہا تو کیا وہ اپنے ولی کے سامنے اپنی شادی کی خواہش کا اظہار کر سکتی ہے؟اور کیا لڑکی کا ولی لڑکے والوں سے رشتے کی بات کر سکتا ہے؟ جواب:اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنے ولی کو بتائے کہ وہ شادی کی رغبت رکھتی ہے اور اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ولی اپنی بیٹی یا اپنی زیر ولایت لڑکی کے رشتے کے متعلق اہل خیر و اصلاح اور امانت دار لوگوں سے بات کرے۔اس کی تائید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فعل سے بھی ہوتی ہے کہ جب ان کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر انہیں پیش کیا(یعنی بات کی)کہ وہ ان سے شادی کر لیں۔[1]....(سعودی فتویٰ کمیٹی) کفو رشتہ ملنے کے باوجود لڑکی کی شادی نہ کرنا اور اس کا عدالت میں جانا سوال:میری ایک اٹھائیس سالہ سہیلی کے لیے ایک دینی اور اچھے اخلاق والے اور اچھے خاندان کے نوجوان کا رشتہ آیا ہے اور اس کی شہادت لڑکی والے بھی دیتے ہیں،لیکن میری سہیلی کو اس پر بہت تعجب ہے کہ باوجود اس کے کہ والدین اس کے دین اور اخلاق کی شہادت بھی دیتے ہیں مگر پھر بھی رشتے سے انکار کرتے ہیں۔ انکار کا صرف یہ سبب ہے کہ وہ لڑکا ان کی برادری اور قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا اور غیر برادری میں شادی کرنا ان کے نزدیک صحیح نہیں۔میری سہیلی نے اپنے والدین کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔پھر اس نے کسی کے واسطے سے بھی والدین تک بات پہنچائی اور اپنے دو چچا زاد بھائیوں کو بھی اس لڑکے کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے بھیجا جنہوں نے اسے ایک اچھا اور بہتر نوجوان پایا،انہوں نے بھی لڑکی کے والدین سے بات کی [1] [(بخاری(5122) کتاب النکاح: باب عرض الانسان ابنته أوأخته على أهل الخير، نسائى(6/77) صحيح نسائى (3047) احمد(1/12)،)2/27) ابن حبان(9/347) أبو يعلى (1/18) طبرانى(23/186) ابن سعد فى الطبقات(8/81)]