کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 65
کہ اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں۔وہ مجھے تو یہ کہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت ہے لیکن میرا اعتقاد یہ ہے کہ وہ جیسا سلوک اپنی دوسری بیوی سے کرتا ہے مجھ سے نہیں کرتا اور وہ مجھے اپنی دوسری بیوی کے بارے میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو میں نہیں سننا چاہتی۔یاد رہے کہ دونوں شادیاں خفیہ اور مشتبہ طریقے سے انجام پائی ہیں،اس نے ایک بار کہا کہ وہ ایک دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے لیکن وہ صرف تبدیلی کے لیے کچھ مدت تک شادی کرتا ہے تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ شادی کرے اور جب چاہے طلاق دے ڈالے؟ ہماری کوئی اولاد نہیں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اس سے طلاق حاصل کر لوں کیونکہ اس حالت میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور پھر مجھے اپنے خاوند کی محبت اور اس کی رغبت بھی نصیب نہیں؟ جواب:خاوند اور بیوی پر یہ واجب اور ضروری ہے کہ وہ اپنے راز وں کی حفاظت کریں اور خاص کر ایسے راز جو جماع وہم بستری اور ایک دوسرے سے خصوصی تعلق کے ہوتے ہیں۔بیوی اپنے خاوند کے رازوں کی امین ہے اور اسی طرح خاوند اپنی بیوی کے رازوں پر امین ہے۔ حضرت ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کے پاس آئے اور کہنے لگے،کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنی بیوی کے پاس جائے اور دروازہ بند کر کے اپنے اوپر پردہ ڈالے اور اللہ تعالیٰ کے پردہ کے ساتھ وہ بھی پردہ میں رہے؟تو صحابہ کرام کہنے لگے،جی ہاں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر وہ کسی کے پاس بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے(اپنی بیوی کے ساتھ رات کو)اس طرح کیا اور اس طرح کیا؟ابو ہریرہ ﷜ بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر سب صحابہ کرام خاموش ہو گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے،کیا تم میں بھی کوئی ایسی ہے جو یہ باتیں کرتی ہے(یعنی مباشرت وہم بستری کے راز افشاں کرتی ہے)؟تو سب عورتیں خاموش رہیں۔ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے پر بیٹھی اور اونچی ہوئی تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ سکیں اور اس کی بات کو سن سکیں۔وہ کہنے لگی:اے اللہ کے رسول!بلاشبہ مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں علم ہے کہ اس کی مثال کیا ہے؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(خود ہی)فرمایا:اس کی مثال اس شیطاننی کی ہے جو شیطان سے کسی گلی اور راستے میں ملوں اور لوگوں کے سامنے ہی اس سے اپنی حاجت پوری کر کے(یعنی ہم بستری کر کے)چلتی بنے۔[1] [1] [ (صحیح: صحیح الجامع الصغیر: 7037؛ سنن ابی داؤد: 2174؛ کتاب النکاح، با ب ما یکرہ من ذکر الرجل ما یکون من اصابتہ اہلہ)]