کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 58
ہو لیکن اس کی نیت ہے کہ جب بھی اس میں استطاعت ہوئی وہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کرے گا،یہ بھی علم میں رکھیں کہ قرض خواہ اس کے ساتھ اسی ملک میں رہائش پذیر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بالفرض اگر اس شخص کے پاس کچھ مال آئے اور اسے یہ خدشہ ہو کہ وہ فتنہ میں پڑ جائے گا اور اسے شادی کی رغبت ہو تو کیا وہ پہلے شادی کرے یا اسے پہلے لوگوں کے حقوق ادا کرنے چاہیں؟ جواب:قرض وغیرہ کی شکل میں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی شادی پر مقدم کرنا واجب ہے،لیکن جب قرض واپس لینےوالے اسے قرض کی ادائیگی پر شادی کو مقدم کرنے کی اجازت دے دیں تو اس حالت میں شادی مقدم کرنا جائز ہو گا۔ رہا مسئلہ یہ کہ اسے اپنے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے نفس کو گناہ سے بچانے کے لیے روزے رکھے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے اور جس میں اس کی طاقت نہیں وہ روزے رکھے کیونکہ وہ اس کے لیے ڈھال ہیں۔‘‘[1]اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والے ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) ناقص العقل کی شادی کرنے کا حکم سوال:میرا ایک تیس سالہ بھائی ’فہد‘ شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مندرجہ ذیل مشکل درپیش ہے: وہ ایک عام قسم کا انسان ہے اور اس کا حافظہ بھی قوی ہے۔جسم بھی ٹھیک ٹھاک اور صحیح ہے۔عورت اور مرد کی پہچان کر سکتا ہے اور جب ہم شادی کے معاملے میں بات چیت کریں تو اسے بھی وہ سمجھتا ہے لیکن اس میں تمیز نہیں کر سکتا۔ دوسرے معنوں میں یہ کہ نہ تو وہ شادی کے معنیٰ میں سمجھتا ہے اور نہ ہی طلاق اور واجبی حقوق ِ زوجیت میں تمیز کرتا ہے،تو سوال یہ ہے کہ آیا اس کی شادی کرنا جائز ہے کہ نہیں۔آپ کے علم میں رہے کہ وہ کہتا ہے میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ جواب:اس کی شادی کرنا جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ لڑکی کے ولی اور لڑکی کو اس کے عقلی نقص اور عدم تمیز کے [1] (بخاری، 5065، کتاب النکاح: باب قول النبی: من استطاع الباءۃ فلیتزوج، مسلم(1400)