کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 53
ہے خواہ وہ اسے ناپسند ہی کرتی ہو۔)‘‘ امام ابن منذر نے کہا ہے کہ ’’اہل علم میں سے جن کے متعلق بھی ہمیں علم ہے وہ سب اس بات پر متفق ہیں اور ان کا اجماع ہے کہ چھوٹی کنواری لڑکی کا نکاح اس کا والد کر سکتا ہے اور جب والد اپنی چھوٹی بچی کی اس کے کفو اور مناسب لڑکے سے شادی کر دے تو بچی کی ناپسندیدگی اور انکار کرنے کے باوجود والد کےلیے اس کی شادی کرنا جائز ہے۔‘‘[1] لیکن امام احمد  سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لڑکی نو برس کی ہو جائے تو وہ بالغ لڑکی کے حکم میں ہو گی اور اس سے اجازت حاصل کرنا واجب ہے تو اس لیے اگر والد احتیاط سے کام لے اور اس سے اجازت حاصل کر لے تو یہ بہتر اور اچھا ہے۔[2](واللہ اعلم)....(شیخ محمد المنجد) 12 سال کی عمر میں نکاح سوال:کیا میرے لیے نکاح جائز ہے جبکہ میری عمر 12 سال ہے؟ جواب:آپ کے لیے 12 سال کی عمر میں نکاح جائز ہے اور ہمیں کسی ایسی(شرعی)رکاوٹ کا علم نہیں جو اس(عمر میں نکاح)سے روکتی ہو۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) عمر میں فرق کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی میں حکمت سوال:میرے ایک عیسائی دوست نے یہ سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا سے نو برس کی عمر میں شادی کرنے کی کیا حکمت تھی،حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ساٹھ برس کے ہونے والے تھے اور کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس عمر میں ازدواجی تعلقات قائم کیے تھے یا نہیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے اس کے رد کا علم نہیں،لہٰذا اس کا ضرور جواب دیں۔ جواب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی کرنے کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کنواری تھیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور جب ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیے تو ان کی [1] [المغني لابن قدامة: 9/398)] [2] [المغني لابن قدامة: 9/398-405)]