کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 525
جواب۔چھوٹی بیٹی کی پرورش اس کی ماں ہی کرے گی جب تک وہ کسی اور مرد سے شادی نہیں کر لیتی یا اس بیٹی کی عمر بھی سات سال نہیں ہو جاتی پھر(اس کی شادی یا بچی کی سات سال کی عمرکے بعد)اس کی پرورش اس کے والد کے ذمہ ہو گی بشرطیکہ باپ کے پاس رہنے میں بچی کو کسی ضرر کا اندیشہ نہ ہو اور بڑی بیٹی کی پرورش بھی اس کا باپ ہی کرے گا جب تک اسے اس کے پاس کوئی نقصان لاحق نہ ہو۔(شیخ محمد آل شیخ) مسلمان کی وفات کے بعد عیسائی بیوی سے پیدا شدہ اولاد کی پرورش کا حقدار کون؟ سوال۔جب مسلمان شخص فوت ہو جائے اور اس کی عیسائی بیوی سے پیدا شدہ اولاد کی پرورش کا حق کسے حاصل ہو گا مسلمان شخص کے دیگر مسلمان رشتہ دار بھی بہت دور ہیں؟ جواب۔اہل علم کی اکثریت کا کہنا ہے کہ بچوں کو کسی کافر کی پرورش میں نہیں دیا جائے گا۔[1]اس لیے اگر آدمی کے مسلمان رشتہ دار بہت زیادہ دور ہوں تو بچوں کو ان کے پاس بھیجا جائے گا اگر یہ ممکن نہیں توبچوں کو کسی مسلمان گھرانے کے سپرد کردیا جائے گا تاکہ وہ ان کی دیکھ بھال اور اسلامی تربیت کر سکیں۔(شیخ محمد المنجد) ایڈز کی شکارماں کا اپنے تندرست بچے کی پرورش اور دودھ پلانا:۔ سوال۔کیا ایڈز کی شکار ماں اپنے تندرست بچے کی پرورش کر سکتی ہے اور اسے دودھ پلا سکتی ہے؟ جواب۔دور حاضر میں میڈیکل نے طبی طور پر معلومات مہیا کی ہیں جو اس پر دلات کرتی ہیں کہ ایڈز کی شکار ماں کا اپنے بچے کو دودھ پلانے اور اس کی پرورش کرنے سے بچے کو یقینی خطرہ نہیں بلکہ اس مسئلے میں اس کی حالت عادی زندگی جیسی ہی ہے جس میں ایک دوسرے سے میل جول ہوتا ہے اس لیے شریعت میں کسی قسم کی ممانعت نہیں لہٰذا اگر اسے طبی طور پر ممانعت نہیں تو وہ اپنے بچے کی پرورش کر سکتی ہے اور اسے دودھ پلاسکتی ہے۔ البتہ میاں بیوی میں سے تندرست کو یہ حق حاصل ہے کہ ایڈز کے مریض سے الگ ہوجائے خواہ وہ خاوند ہو یا بیوی۔اس لیے کہ ایڈز کا مرض جنسی تعلقات قائم کرنے سے دوسرے کو بھی لگ جاتا ہے۔[2](شیخ محمد المنجد) [1] ۔تفصیل کے لیے دیکھئے:[ المغنی لا بن قدامہ 412/11] [2] ۔مزید دیکھئے :[مجمع الفقہ الاسلامی (ص/206۔204]