کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 524
واضح رہے کہ عورت کا بچے پر زیادہ حق اس وقت تک ہے جب تک بچہ بالغ نہ ہوجائے کیونکہ جب وہ بالغ اور سن تمیز تک پہنچ جائے گا تو پھر اسے اختیار دے دیا جائے گا چاہے تو ماں کے پاس چلا جائے اور چاہے تو باپ کے پاس جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے سے کہا: "اے لڑکے!یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان دونوں میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑلے۔پھر اس بچے نے ماں کا ہاتھ پکڑلیا اور وہ اسے لے کر چلتی بنی۔"[1] اور اگر بچہ خود فیصلہ نہ کرسکے تو قرعہ ڈال لیا جائے کیونکہ یہ بھی مشروع ہے۔[2] البتہ اس سے بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ بچے کو والدین میں سے اس کی پرورش میں دیا جائے جس کے پاس رہنے میں بچے کی مصلحت ہو یعنی ان میں سے جو زیادہ نیک اور متقی ہو بچے کو اسی کے ساتھ ملحق کر دیا جائے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) فاسق کا بچوں کی پرورش کرنے کا حکم:۔ سوال۔کیا فاسق سے بچوں کی پرورش کا حق ہو جاتا ہے؟ جواب۔فاسق سے بچوں کی پرورش کا حق ساقط نہیں ہو تا یہی قول راجح ہے(البتہ بہتر یہ ہے کہ بچے کو اس کی پرورش میں نہ دیا جائے تاکہ بچہ بری عادات واخلاق سیکھنے سے بچ جائے)(شیخ عبد الرحمن سعدی) سات سال کی بیٹی کی پرورش کا حق کس کو ہے؟ سوال۔ایک طلاق یا فتہ عورت کی زیر پرورش دو بیٹیاں ہیں ان میں سے ایک سات برس کی ہو گئی ہے اور دوسری آٹھ ماہ کی ہے اور ان کا والد چاہتا ہے کہ ان دونوں کو ان کی ماں سے لے کر اس کی سوکن(یعنی اپنی دوسری بیوی)کی پرورش میں دے دے(تو اس کا کیا حکم ہے)؟ [1] ۔[صحیح ،ارواء الغلیل 2192۔کتاب الطلاق : باب من احق بالولد ابو داود 2277۔کتاب الطلاق باب من احق بالولد ترمذی 1357۔کتاب الاحکام باب ماجاء فی تخیر الغلام بین ابو بہ اذا فترقا نسائی 3496۔کتاب الطلاق باب اسلام احد الزوجین و تخیر الولد ابن ماجہ 2351کتاب الاحکام باب تخیر الصبی بین ابو بہ احمد 7346۔شاکر مشکل الاثار 176/4۔امام زیلعی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے (نصب الرایہ 269/3۔تلخیص الخبیر12/4] [2] ۔[صحیح ،صحیح ابو داؤد 1991کتاب الطلاق باب من احق بالولد ابو داؤد 2277نسائی 185/6۔ابن ابی شیۃ 237/5]