کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 519
جواب۔اس حالت میں آپ اپنی خالہ کی بیٹی سے شادی کر سکتے ہیں۔اس لیے کہ جس رضاعت سے حرمت ثابت ہوتی ہے اس کی تعداد پانچ ہے اور اس کی دلیل مندرجہ ذیل صحیح حدیث ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ: "پہلے قرآن میں یہ حکم اتراتھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے پھر یہ منسوخ ہو گیا اور یہ(نازل ہوا کہ)پانچ مرتبہ دودھ پینا حرمت کا سبب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ قرآن میں پڑھا جا تا تھا۔"[1] شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ اگر کسی نے کسی عورت کا تین بار دودھ پیا تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوجائے گی؟تو ان کا جواب تھا۔ ان تین رضعات سے حرمت ثابت نہیں ہو گی بلکہ تحریم پانچ بار اس سے بھی زیادہ بار دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے پھر شیخ نے اوپر بیان کی گئی حدیث عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے استدلال کیا۔[2] شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے۔ ایک بار دودھ پینا اثر انداز نہیں ہو تا پانچ مرتبہ دودھ پینا ضروری ہے اور یہ بھی دودھ چھڑانے کی عدت سے پہلے اور وہ مدت بچے کی عمر دو سال ہونے تک ہے اگر کسی نے ایک یا دو تین یا چار مرتبہ دودھ پی لیا تو اس سے وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا نہیں بنے گا بلکہ اس کے لیے پانچ بار دودھ پینا ضروری ہے اور اگر کسی کو یہ شک ہو کہ اس نے چار بار دودھ پیا ہے یا پانچ بار اصل اور صحیح یہ ہے کہ چار بار ہی پیا ہے اس لیے کہ جب بھی عدد میں شک ہو جائے تو کم عدد ہی لیا جائےگا۔ اس بنا پر اگر کوئی عورت یہ کہتی ہے کہ اس نے اس بچے کو دودھ پلایا ہے لیکن پتہ نہیں کہ ایک دو تین چار یا پانچ بار؟تو ہم کہیں گے کہ بچہ اس کا رضاعی بیٹا نہیں کیونکہ اس کے لیے بلاشبہ پانچ رضعات کا ہو نا ضروری ہے۔[3](شیخ محمد المنجد) رضاعی خالہ سے شادی:۔ سوال۔ہمیں ایک بہت ہی حساس اور اہم مسئلہ درپیش ہے جو کہ رضاعت سے متعلقہ ہے جسے ہم درج ذیل [1] ۔[مسلم 1352۔کتاب الرضاع :باب التحریم بخمس رضعات ] [2] ۔[فتاوی اسلامیہ 326/3] [3] ۔مزید یکھئے:[ الفتاوی الجامعہ للمراء المسلمۃ 768/2]